نیپالی زبان میں جہاں پانی اکٹھا ہو جائے اس جگہ کو پوکھری کہتے ہیں اور نیپال میں ایک ایسا شہر ہے جہاں بہت سی جگہوں پر بارشوں , چشموں اور آبشاروں کا پانی اکٹھا ہو کر خوبصورت جھیلیں بناتا ہے اسی مناسبت سے اس شہر کو پوکھرہ کہتے ہیں ۔ پوکھرہ جھیلوں کا شہر یعنی بلاشبہ پانیوں کا ایک گلدستہ ہے ۔
اگر آپ انسانی نفسیات پر تفکر کرنے کے شوقین ہیں اور آپ کو شہر، کافی، حسین ودلکش مناظر، پرسکون فضا، تقریبا روزانہ بارش، بادل، پرامن لوگ، دن رات جاگتے بازار، بازاروں میں اپنے محلے کی طرح ٹہلتے یورپی سیاح، ساکت کھڑے مذہبی شخصیات کے بت اور مینار، پہاڑ، آبشاریں، چشمے اور جھیلیں ایک ساتھ دیکھنے ہوں تو شاید پوکھرہ ہی دنیا میں واحد شہر ہوگا جو ان سب خصوصیات کا ایک ساتھ حامل ہوگا۔ پوکھرہ شہر نہیں ایک مسحور کرتی نفسیاتی کیفیت ہے جو انسان کو بادل بنا کر ہوا میں لے اڑتی ہے اور پوکھرہ کی فضاء میں تحلیل کرکے نشے کی سی حالت میں مبتلا کر دیتی ہے ، یہ نشہ وہاں سے آکر بھی بہت عرصہ اپنے مسافر کو ایسے ہی اپنی طرف کھینچتا ہے جیسے پھول بلبل کو۔ پوکھرہ کی کیفیت عام لفظوں کے بیان سے بالا ہے اور خاص لفظوں کے تخیل سے بلند۔
لوگ کہتے ہیں پوکھرہ شہر کے جنوب میں فیوا جھیل واقع ہے ، اس جھیل کی خوبصورتی ، وسعت، مقاصد، فوائد اور پہنچ کو دیکھتے ہوئے یہ جملہ مناسب معلوم نہیں ہوتا بلکہ مبالغہ نہ ہو تو یہ جملہ فیوا جھیل کی گستاخی معلوم ہوتا ہے ، جملہ یوں ہونا چاہیے کہ فیوا جھیل نے اپنی مختلف قسم کی کشش کے باعث جن لوگوں کو اپنی ارد گرد آباد ہونے پر مجبور کر دیا اس علاقے کو پوکھرہ کہتے ہیں۔
بڑے کہتے ہیں عمر میں بڑوں کا ادب کرنا چاہیے تو جان لیجئے کہ فیوا جھیل کی عمر 13000 سال ہے یہ جھیلوں کی بزرگ ہے، فیوا میں کہیں کوئی شور نہیں سننے کو ملے گا ، اس میں خاموشی ہے، گہرا سکوت ہے ایک ٹھہراؤ ہے جو سکھاتا ہے کہ آپ کتنے ہی بڑے، بزرگ یا اہم کیوں نہ ہو جائیں ، آپ کو کتنے ہی ہنگاموں کو اپنے اندر سمیٹنا ہی نہ پڑ جائے پھر بھی آپ میں ٹھہراؤ ہونا چاہئے ، پہاڑوں سے گرتا ٹکراتا ہوا پانی شور کرتا ہوا پانی جیسے ہی فیوا کے دامن میں پہنچتا ہے تو بلکل ایسے خاموش ہو جاتا ہے جیسے بلکتا ہوا بچہ اپنی ماں کے دامن میں آتے ہی پرسکون ہو جاتا ہے ۔
کہتے ہیں جو فائدہ دے اس کے شکر گزار بنو، فیوا اپنی ایک جانب پورے شہر کو سیاحوں سے سے آنے والی آمدن سے مستفید کرتی ہے کیونکہ یہ نیپال میں سب سے زیادہ دیکھی جانے والی جھیل ہے۔ دوسری طرف اس کے پانی کے بہاؤ کو استعمال کرتے ہوئے بجلی پیدا کی جاتی ہے، فیوا کی تیسری طرف مچھلیوں کی بھرمار تازہ اور سفید گوشت مہیا کر رہی ہے ، فیوا کے تین اطراف میں ایک ہزار سے زائد دکانوں میں کم از کم دس ہزار افراد کا رزق وابستہ ہے ۔ فیوا کے سب سے آخری جانب رتنا مندر ہے جو نیپال کے شاہ مہندرا نے اپنی بیوی رتنا کے لیے بنوایا تھا اور یہں پر شاہی خاندان کی رہائش رہی ، یہ نام سے مندر ہے اور اصل میں شاہی محل ہے جو کم و بیش 56 ہزار مربع میٹر پر مشتمل ہے۔ اور فیوا کی عین وسط میں براہی مندر ہے۔
ہندو دھرم میں ایک مشہور اصطلاح ہے متریکا، متریکا سات دیویوں کو اکٹھے پکارنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ، اس کے لئے ایک اور اصطلاح بھی استعمال کی جاتی ہے سپتا متریکا یعنی سات مائیں ، ان سات میں سے ایک دیوی ہیں وراہی جن کو نیپال میں براہی اور ہندوستان کے صوبہ راجھستان میں داندنی بھی کہا جاتا ہے ، انھی وراہی دیوی کا ایک مندر فیوا جھیل کے بالکل وسط میں ہے اور صرف کشتی کے ذریعے یہاں تک رسائی ہوتی ہے ۔ دور دراز سے ہندو دھرم کے ماننے والے اور سیاح یہاں درشن کے لیے آتےہیں، ان کا ماننا ہے کہ یہ دیوی اپنے بھگتوں کی نفسیات کو منفی خیالات اور بری نظر سے بچاتی ہے اور مثبت طاقت مہیا کرتی ہے ۔
نیپال میں شراب اور اسکا کاروبار جائز ہے آپ کو کھانے پینے کی دکانوں سے زیادہ شراب کی دکانیں ملیں گی ، بارڈر کے دوسری طرف انڈیا کا صوبہ بہار ہے جہاں شراب منع ہے تو بہت سے انڈین زیادہ تر چھٹی کے دن یہاں شراب پینے آتے ہیں ، انڈینز کو نیپال کے لیے ویزہ یا پاسپورٹ کی بھی ضرورت نہیں ہے ، بس پر یا اپنی گاڑی پر سوار ہوں اور آجائیں ۔ شراب کی ڈھیروں دکانوں ، سستی اور مہنگی شراب کی فراوانی اور ہر طرح کی پینے کی آزادی کے باوجود آپ کو کوئی بندہ نشے میں یا نشے والی حرکات کرتے یا بدتمیزی کرتے نہیں نظر آۓ گا نہ دن کے وقت نہ رات کے کسی پہر اور نہ ہی ہفتے کی آخری راتوں میں نہ چھٹی کے دن ۔
کافی کی دکانیں پوکھرہ میں اتنی ہیں جتنی آپ گن سکتے ہوں ، پوکھرہ کے لوگ خود زیادہ کافی نہیں پیتے مگر وہ جانتے ہیں کہ ان کے ہاں آنے والے مہمان سیاح کافی پیتے ہیں اس لیے انھوں نے شہر کا کونہ کونہ کافی سے بھر دیا ہے۔ مہمان نوازی کا جو اصول ہمارے ملک میں اور رواج میں شامل ہے مجھے اس سے قدرے اختلاف ہے، ہم اپنی مرضی کا کھانا پینا اپنی مرضی کی مقدار سے مہمان کو زبردستی کھلا کر سمجھتے ہیں کہ مہمان نوازی ہو رہی ہے، اس کا آسان جواب پوکھرہ کی کافی کی دکانیں ہیں، مہمان کو وہ کھانے پینے کودیں جو اس کا دل چاہتا ہے نہ کہ ہمارا اور اتنا ہی جتنا مہمان چاہتا ہے ۔
پوکھرہ میں جہاں بھی جائیں آپ کو ہر طرف مذہب ہی مذہب کا رنگ نظر آۓ گا, کہیں شانتی کا مندر کہیں شیوا کا اوتار، کہیں بدیابسینی کا جلوہ کہیں بھدراکالی، بھیم سن یا کیداریشور کے آستانے اور جگہ جگہ مہاتما بدھ کی گیان دیتی مورتیاں، بدھا کی نیم وا آنکھوں والی مورتیاں جو یہ بتاتی ہیں کہ آنکھیں کم کھولو تاکہ باہر صرف اتنا ہی نظر آسکے جتنا زندہ رہنے کے لیے ضروری ہے اور اندر کی آنکھیں مکمل کھول کر رکھو تاکہ اتنا نظر آۓ جتنا دوسروں کے لیے بھی مشعل راہ بن جاۓ، اس سب کے باوجود آپ ایک بات پر حیران ہوۓ بغیر نہیں رہ سکتے کہ پورے شہر اور ملک کے کسی کونے میں کوئی بھی آپ کو اپنے مذہب کا پرچار کرتا نظر نہیں آۓ گا، یہاں 81 فیصد ہندو ، 8 فیصد بدھ مت ، 5 فیصد مسلم اور 3 فیصد کیراتزم ہے مگر نہ کوئی جماعت اپنے دھرم کی تبلیغ کرتی ملے گی اور نہ آپ کو کوئی کاغذ کا پرچہ تھمایا جاۓ گا جو آپ کو ان مذاہب کی دعوت پیش کر رہا ہو۔ مذہب ایک خاموش صوفی بزرگ کی طرح خانقاہ میں منتظر ہے جو لوگوں کی تلاش میں کبھی بھی خود نہیں نکلتا ہاں لوگ کبھی کبھی اسے تلاش کرتے وہاں ضرور پہنچ جاتے ہیں ۔
محبت اور مودت دونوں عربی زبان میں نفسیاتی جذبات کے لیے استعمال ہونے والے الفاظ ہیں، محبت کا مطلب ہی کسی چیز کا آپ کے لیے اتنا اہم ہونا ہے کہ اس کے بغیر زندہ رہنا مشکل ہو جانا اور مودت عربی زبان میں اس نفسیاتی حالت کو کہتے ہیں جس میں کسی چیز کی اہمیت اتنی شدت اختیار کر جائے کہ اس چیز کے بغیر رہنا ناممکن ہو جائے ، ہزاروں سال پرانے عربی ادب میں لکھا گیا ہے کہ مینڈک کو پانی سے محبت ہوتی ہے وہ پانی پا کر خوش ہوتا ہے اور پانی کے بغیر اداس رہتا ہے مگر مر نہیں جاتا اور مچھلی کو پانی سے مودت ہوتی ہے اسے پانی نہیں ملتا تو وہ مر جاتی ہے ۔
جھیل اور پانی میں بھی مودت ہوتی ہے ، دونوں ایک دوجے کے بغیر ختم ہو جاتے ہیں ، زندہ ہی نہیں رہ سکتے، اسی مودت کے سبب وجہ سے جو شے بھی پانی کے ساتھ بہتی ہوئی جھیل میں آ جائے، جھیل اسے بھی مودت کے بدولت سر آنکھوں پر بٹھا لیتی ہے ۔
اس جھیلوں والے شہر کے لوگوں میں بھی آپ کو مودت کا عکس نظر آۓ گا، وہ آپ کو جھک کر ملیں گے یعنی ملاقات کا آغاز ہی عاجزی سے کرتے ہیں، وہ جھیل کے ظرف کی مانند پانی میں آنے والی ہر شے کو قبول کرنے کے انداز میں آپ سے آپ کا مذہب، ملک ، قوم اور آنے کی وجہ تک بھی دریافت نہیں کرتے، وہ آپ کو کوئی بھی سواری کراۓ پر دیتے وقت بھی آپ سے ضمانت طلب نہیں کرتے، انھیں یقین ہے آپ ان کی امانت کو حفاظت سے رکھیں گے اور لوٹا بھی دیں گے، سائیکالوجی کے مطابق کسی کو چور سمجھنے کے لیے خود کا چور ہونا سب سے بڑی وجہ ہے جیسا کہ بقول میاں محمد بخش صاحب
آپے بھلا جے کوئی ہووے ، سب نوں بھلا تکیندا
(جو خود اچھا ہوتا ہے اسے سب اچھے ہی نظر آتے ہیں)
میاں صاحب نے انسانی نفسیات کو جس تفصیل ، خوبصورتی اور آسانی سے بیان کیا ہے شاید اس کی مثال ڈھونڈنا ممکن نہ ہو، آگے منفی نفسیات کے بارے میں فرماتے ہیں
شیش محل وچ کتا وڑیا تے اس نوں سمجھ نہ آوے
جیہڑے پاسے جاوے اونہوں کتا ہی نظریں آوے
(جو اندر سے کتا ہوتا ہے وہ اگر شیشوں والے کمرے میں چلا جائے تو اس کو ہر دیوار میں کتا یعنی اپنا آپ ہی نظر آتا ہے ، ہم جیسے خود ہوتے ہیں دوسروں کو بھی ویسا ہی دیکھتے ہیں)
تحریر: حسنین ملک