میرا ایک کلاس فیلو تھا، بنیادی طور پر شیعہ نقوی سید خاندان سے اس کا تعلق تھا مگر وہ ایتھیسٹ ہو چکا تھا یعنی خدا اور اسکے بناۓ ہوۓ قوانین کا منکر۔ شروع میں تو اس نے اپنی فیملی اور فرقہ کی روایات سے انکار کیا جس میں اسے شدید مزاحمت ہوئی ، لعن طعن تک بھی بات گئی پھر آخر میں ماں نے دودھ اور باپ نے پراپرٹی بخشنے سے انکار کر دیا اور یوں ان بھائی صاحب کو مزید پختہ ہونے کا سامان میسر ہو گیا۔ گرین کارڈ کی سہولت ان سے واپس نہیں لی جا سکتی تھی اس لیے وہ امریکہ چلا گیا اور ہمارا رابطہ بھی تقریباً منقطع ہو گیا۔
وہ دس سال بعد آیا تو عمر، تجربہ اور نظریہ ،سب میں مزید پختہ ہو چکا تھا مگر اس کی ایک سب سے بڑی خوبی یہ تھی وہ کسی کو اپنی سوچ کی طرف نہیں بلاتا تھا نہ چاہتا تھا کہ کوئی اس کی طرح سوچے نہ کسی کو قائل کرتا تھا اور اس بات پر تب مجھے بھی بہت غصہ آتا تھا کیونکہ ہم سب اس وقت تحقیق ہی اس لیے کرتے تھے کہ دوسروں کو تائب اور قائل کر سکیں۔
2012
میں ہماری ملاقات لاہور کے ایک کیفے میں ہوئی، دن کے وقت ملے کیونکہ شام میں ہمارے ہاں اس دن میلاد کی محفل ہوا کرتی تھی۔ میں گفتگو کو خیر خیریت ،بیوی بچوں اور نوکری سے نکال کر کسی نہ کسی طرح مذہب کی طرف لانے میں کامیاب ہو گیا۔ جہاں ہم بیٹھے تھے وہاں بلند آواز میں نعتیہ قوالی چل رہی تھی میں نے کہہ کر آواز کچھ آہستہ کروائی تاکہ بات کرنے میں آسانی ہو۔ تب قوال پڑھ رہا تھا
بھر دو جھولی میری یا محمد
میں نے پوچھا کہ ویسے نعت سننے میں کوئی حرج تو نہیں ہے نا؟
وہ بولا انسان جس کو پسند کرتا ہے اس کی تعریف سننا اچھا لگتا ہے نعت میں بھی تعریفیں ہوتی ہیں اس لیے لوگ شوق سے سنتے ہیں۔
مجھے جان کر تسلی ہوئی کہ اسے کم از کم نعت پر کوئی اعتراض نہ تھا مگر وہ آگے گویا ہوا
مگر پسندیدہ شخصیت کے معاملے میں انسان ایک غلطی لازماً کرتے ہیں کہ اس کی باتیں یا تعریفیں سنتے وقت عقل و پرکھ کو بروئے کار نہیں لاتے۔ اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ کوئی بھی جھوٹ یا غلط واقعہ بھی سچ مان لیا جاتا ہے کیونکہ اس میں بھی ہماری پسندیدہ شخصیت کی تعریف ہو رہی ہوتی ہے اور ہم تعریف سننے کے دوران عقل سے نہیں سوچ پاتے صرف جزبات سے سرشار ہوتے ہیں۔ اسی طرح ناپسندیدہ شخص کے بارے میں تعریف سننا بھی ہے چونکہ ناپسندیدہ شخص کا نام آتے ہی نفرت، بغض یا ضد کے جزبات ہاوی ہو جاتے ہیں اس لیے اس کی تعریف ہمارے کانوں تک آکر واپس چلی جاتی ہے اسے ہم دل تک آنے ہی نہیں دیتے۔
وہ کچھ لمحے رکا اور میری طرف دیکھتے ہوئے بولا
ہندو دھرم کی کتاب رامائن میں لکھا ہے کہ ہنومان جی (مقدس بندر) جب چھوٹے تھے، ان کو بھوک لگی تو وہ سورج کھا گئے پھر اندرا دیوی نے آکے ان سے سورج واپس لیا ورنہ دنیا میں اندھیرا ہو جانا تھا۔
یہ بات آجکل کے ماڈرن ہندو بھی دل سے تسلیم نہیں کرتے مگر ماننے والے ایسے بھی جن کا اس واقعہ پر پورا ایمان ہے اور وہ اس کو سن کر جھوم اُٹھتے ہیں کیونکہ ہنومان مان جی سے ان کو عقیدت ہے اور اس میں ان کی تعریف ہے۔ اب تم سوچ کر عقل سے بتاؤ کہ تمھیں کیا لگا یہ واقعہ سن کر؟
میں نے فوراً کہا کہ ایسا ناممکن ہے ایک بندر بھلے وہ کتنا ہی مقدس کیوں نہ ہو سورج تک نہ پہنچ سکتا ہے اور نہ اسے نگل سکتا ہے، کروڑوں عربوں بندر بھی اکٹھے کر لئے جائیں تب بھی سورج کا حجم ان سے بڑا ہوگا۔ پرانے وقتوں میں چونکہ لوگوں کو سورج کی اتنی تفصیل نہیں پتہ تھی اس لیے ایسے واقعات مشہور ہو گئے اور تم نے خود ہی تو کہا کہ اب ماڈرن ہندو بھی اسے نہیں مانتے کیونکہ وہ سائنس سمجھ گئے ہیں۔
وہ دھیرے سے بولا دیکھو یہ بھی ایک مذہبی واقعہ ہے جس کے کروڑوں ماننے والے بھی ہیں اور ہزاروں سال سے چلا آرہا ہے مگر تم نے اس کو جزبات کی بجائے عقل سے سمجھنے کی کوشش کی تو تمھیں لگا کہ ہنومان جی سورج کو کسی صورت نہیں نگل سکتے اور عقل نے بتایا کہ نہ پوری دنیا میں اندھیرا ہو سکتا کیونکہ عقل جانتی ہے سورج چاند سب ایک نظام کے تحت اپنے اپنے مقررہ وقت پر نکلتے اور غروب ہوتے ہیں۔ عقل ہی بتاتی ہے کہ ہنومان یا کوئی بھی جاندار اتنی بڑی چھلانگ نہیں لگا سکتا۔ چونکہ تمھیں ہنومان جی سے یا رامائن سے کوئی عقیدت نہیں اس لیے تمھیں کوئی فرق نہیں پڑرہا تھا کہ واقعہ کا عقلی تجزیہ کیا نکلے گا، نہ تمھیں اسے سچا ثابت کرنا تھا نا جھوٹا، تمھیں صرف عقل سے سوچنا تھا اور تم نے وہی کیا۔
اب دیکھو ذرا ایک اور واقعہ جس کی ساری تفصیل تمھیں پہلے ہی پتہ ہے۔ کہتے ہیں نہ ایک دفعہ حضرت بلال نے اذان نہیں دی تو سورج ہی نہیں نکلا، کافی دفعہ اذان دی گئی مگر صبح نہیں ہوئی یعنی اندھیرا چھایا رہا۔ میں واقعہ کی تفصیل میں نہیں جا رہا کیونکہ ہم سب کو پتہ ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ مسلمانوں میں سے بیشتر کے نزدیک یہ واقعہ سچا نہیں ہے اسی لیے کسی بھی بڑی تاریخی کتاب میں اس کا ذکر نہیں ملتا۔ اب اس واقعہ پر تم سوچ کر بتاؤ کہ سن کر تمھیں کیا محسوس ہوتا ہے کیا واقعی ایک بندہ اذان نہ دے تو اس دن دنیا میں سورج ہی نہیں نکلے گا اور اندھیرا چھایا رہے گا۔
میں کچھ تذبذب کا شکار ہوا تو وہ دوبارہ بولا
یہی واقعہ میں نے امریکہ میں اپنے کچھ دوستوں کو سنایا تو انھوں نے فوراً کہا کہ تم مسلمانوں نے بھی اپنے مذہب کا وہی حال کر دیا ہے جو ہمارے بڑوں نے ہندوازم، عیسائیت اور باقی مذاہبِ کا کیا تھا کیونکہ یہ واقعہ سنتے وقت ان کو نہ تو حضرت بلال سے کوئی لگاؤ تھا نہ اذان سے کوئی عقیدت۔ اس لئے عقل سے غور وفکر کرنے پر معلوم پڑتا ہے کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔ پھر اگر سچ بھی مان لیا جائے تو بھی بلال کب تک اذان دیتے ایک دن تو سب نے جانا ہی ہے تو کیا بعد میں اندھیرا چھا جاتا۔ انھی دلائل اور تواتر کے سہارے مسلمان مورخین، شیوخ اور تابعین کی اکثریت نے اس واقعہ کہ صحت پر شک کیا ہے۔
یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گیا
پپچھے سپیکرز میں قوال کہہ رہا تھا
حضرت بلال نے جو اذان سحر نہ دی
قدرت خدا کی دیکھو نہ مطلق سحر ہوئی
اسے کچھ بھی کہنے کے بعد کسی جواب کی حاجت نہیں ہوتی تھی کیونکہ وہ کچھ بھی ثابت نہیں کرنا چاہتا تھا، وہ صرف بات کرتا تھا جیسے ہم موسم کے بارے میں بات کرتے ہیں کسی کو گرمی پسند تو کسی کو سردی، کوئی بہار کا شوقین تو کو خزاں پر نثار۔
یہ ملاقات اتنی تھی، مجھے سوچنے پر مجبور کر گئی یا شاید میرا ایمان خراب کرنے کی کوشش کر گئی۔ اس شام تو محفل میلاد میں مصروف رہا رات دیر سے سویا مگر اگلے دن سے اس کی باتیں پھر دماغ میں گھومنے لگ گئیں۔
میں نے انٹرنیٹ پر بیٹھ کر حسب عادت تحقیق کی، مجھے ہنومان جی کے بارے میں ہندوؤں کے اندر ہی دونوں طرح کے دلائل نظر آئے اور حضرت بلال کی اذان کے واقعہ پر مسلمانوں کے بیچ بھی۔ پھر میں نے ایک روحانی بزرگ اور ایک مدرسے میں اپنے ایک دوست سے بھی اس بارے میں دریافت کیا۔ دونوں کی رائے متضاد تھیں، ایک کے مطابق یہ سو فیصد سچا واقعہ بغیر کسی منطق کے کیونکہ وہ عاشق کی اذان تھی اور دوسرے کے نزدیک اس واقعہ پر چونکہ مطلوبہ اور مصدقہ روایات میسر نہیں اس لیے اس پر گمان ہے کہ ایسا نہیں ہوا۔
2019
میں کووڈ سے کچھ عرصہ قبل نقوی کا دوبارہ پاکستان آنا ہوا، ہم اسی طرح ڈیفنس کے ایک کیفے میں ملے۔ اس نے مجھ سے ضروری گفتگو کے بعد کہا
میں نے تمھاری کتاب پڑھی ہے، اچھی کاوش ہے کہ تم نے مختلف زاویوں سے سوچنا تو شروع کیا۔ اس میں کمی یہ ہے کہ تم نے کافی ساری باتوں پر سوال تو کیے مگر جواب نہیں ہیں یا تو تم لکھنا نہیں چاہتے تھے یا بعد میں لکھو گے؟
میں نے موقع جانتے ہوئے اسے پوچھا تمھیں یاد ہے آخری دفعہ ہماری کیا بات ہوئی تھی؟ وہ واقعی بھول چکا تھا میں نے اسے یاد کرایا تو اسے یاد آیا۔
میں نے کہا
میں اس ملاقات کے بعد کافی عرصہ تک تمھاری باتوں پر سوچتا رہا، پہلے پہل تو میں ان کے خلاف اور ان واقعات کو سچا ثابت کرنے پر دلائل ڈھونڈتا رہا کچھ مل جاتے تھے کبھی نہیں بھی مل پائے. وقت گزرتا گیا مگر مسئلہ حل نہیں ہوا۔ وہ کہتے ہیں نہ کہ اگر ہر طرف دیکھنے سے بھی منظر نہیں بدل رہا تو ایک بار عینک بدل کر بھی کوشش کریں، شاید دھول عینک پر ہی جمی ہوئی ہو۔
ہم سب کسی بھی سیاسی، مذہبی یا تاریخی واقعہ یا شخصیت کے بارے میں سنتے ہی کیسے برتاؤ کرتے ہیں یہ جاننا اس واقعہ یا شخصیت کے بارے میں جاننے سے کہیں اہم ہے کیونکہ یہ ہمارا مزاج اور سوچنے کا انداز ہوتا ہے اور اسی انداز سے ہم باقی سب چیزوں کے بارے میں بھی سوچتے ہیں. تو ہم عام طور پر یہی کرتے ہیں کہ کچھ بھی سنتے یا جانتے ہی یہ طے کر لیتے ہیں کہ ہم نے اسے قبول کرنا یا نہیں، قبولیت کا معیار یہ ہے کہ وہ ہماری پسندیدہ شخصیت، نظریہ یا واقعہ کے حق میں ہے یا نہیں ؟ اور یہیں سے غلطی ہو جاتی ہے۔
اصل میں کرنا یہ ہوتا ہے کہ کچھ بھی سنتے ہی سب سے پہلے ہمیں اپنا لائحہ عمل طے کرنا ہوتا ہے کہ ہم اس واقعہ کو جزبات کے بیڈ روم میں لے جانے سے پہلے عقل کے ڈرائنگ روم میں بٹھائیں گے۔ وہاں بٹھا کر ہم اسے چائے پلانے کے بہانے اس کے ساتھ وقت گزاریں گے، اسے پرکھیں گے، عقل کے معیار کے مطابق سمجھیں گے پھر طے کریں گے کہ اسے اپنے علم کی الماری میں جگہ دینی ہے یا ابھی مزید تجربات کے لیے سٹور میں رکھنا ہے۔ بس یہ سادہ سی ایک عادت بدلنے کی دیر ہے پھر ہماری عینک بدل جاتی ہے اور جیسے ہی عینک بدلتی ہے سارا منظر ہی بدل جاتا ہے۔
اس نے میری طرف دیکھا اور عجیب سی مسکراہٹ دی پیچھے سے قوال کہہ رہا تھا
اس کی قسمت کا چمکا ستارہ
جس پہ نظرِ کرم تم نے ڈالی
مجھے کہنے لگا
عرب میں ہمیں یہ رواج بتایا جاتا کہ جو نبی کے جتنا قریب ہوتا تھا سب اسی سے رشتہ جوڑنا چاہتے تھے بہت سے صحابہ کی دوسری اور تیسری شادی اس وجہ سے ہوئی کہ لڑکی کے ماں باپ چاہتے تھے کہ ان کا نبی کے کسی قریبی شخص سے رشتہ جڑ جاۓ
میں نے اثبات میں سر ہلایا
وہ کہنے لگا کہ پھر کتنی عجیب بات ہے نا کہ حضرت بلال جیسے عظیم اور قریبی صحابی کو کسی عرب نے رشتہ کیوں نہیں دیا؟ کیا صرف اس لیے کہ وہ حبشہ سے تھے، عرب نہیں تھے اور دکھنے میں خوبصورت نہیں تھے یا کیا وجہ بنی ہوگی، ایسا کچھ تمھاری نظر سے گزرا؟
میں نے نفی میں سر ہلایا
اس نے کہا چلو دیکھنا اس پر کچھ مل جائے تو بتانا
یہ ملاقات بھی تمام ہوگئي۔ وہ ہمیشہ کی طرح مجھے سوچنے کے لیے مواد دے گیا اور سوچنے کا انداز بھی۔
ڈھیروں کتابوں کے مطالعے اور تحقیق کا نچوڑ یہ ہے کہ ہم جس کا میلاد مناتے ہیں اسکی ساری زندگی کا مطالعہ کر لیجیے، جزبات والے سارے واقعات اور درجات کو ایک طرف رکھتے جائیں اور عقل سے ثابت شدہ واقعات کو دوسری طرف، میں دعوے سے کہتا کہ صرف عقل کے پلڑے والی چیزیں ہی ایسی شخصیت سامنے لے آتی ہیں جس کا ثانی نہیں ملتا۔ ہمیں اتنی بڑی علمی، شعوری اور انقلابی شخصیت کے مقام کو ثابت کرنے کے لیے کسی غیر عقلی دلیل کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی۔
آج ان کا میلاد ہے جو نبوت کی، رسالت کی، ریاست کی، اپنے خاندان کی اور اپنے سے منسلک سب افراد کی ذمہ داریاں اٹھانے کے باوجود سڑک کنارے بیٹھے ایک بچے کے ساتھ مٹی پر بیٹھ کر افسوس کرتے نظر آتے ہیں کہ اس کی چڑیا مر گئی تھی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے
تحریر: حسنین ملک