صاحبہ و صاحب (قسط نمبر 1)
February 4, 2024عظیم بدھا اور تین جانور
February 16, 2024
ہزاروں سال پہلے انسان قبیلوں کی شکل میں رہتے تھے جس میں جوان مردوں کا کام ہوتا تھا روزانہ شکار کر کے لانا تاکہ پورا قبیلہ کھا کر سوۓ اور کوئی بھوکا نہ رہے۔ شکار کرنے کے لیے طاقت، جرآت اور مہارت کی ضرورت ہوتی تھی اس لیے یہ کام انھیں مردوں سے لیا جاتا تھا جو طاقت و مہارت میں سب سے بہتر ہوتے تھے۔ باقی کھیتی باڑی کے لیے سبزیوں پھلوں کی پہچان اور بچوں کی پرورش کے لیے مامتا کی گرمائش چاہیے ہوتی تھی اس لئے یہ دونوں کام قبیلے کی عورتوں کی ذمہ داری ہوا کرتے تھے۔ الغرض ہزاروں سال قبل بھی انسان یہ سیکھ چکا تھا جو جس کام میں ماہر ہوگا وہی کام اس کے سپرد کیا جائے گا ہزاروں سال اس روش کے مطابق گزارنے سے مردوں کو عورتوں پر سبقت حاصل ہونا شروع ہوگئی کیونکہ جو کھلاتا ہے اس کی .IMF ماننی بھی پڑتی ہے چاہے پرانے زمانے کے مرد ہوں یا آج کی
مزید یہ ہوا کہ مختلف قبائل وسائل کی خاطر دوسرے ہمسایہ قبائل پر حملہ آور ہوتے تھے اور ان کا مال اسباب لوٹ لیا کرتے تھے، ایسے حملوں کی روک تھام کے لیے بھی مردانہ افرادی قوت و مہارت کام آتی تو یوں دنیا کی پہلی فوج قائم ہوئی جو ریاست یعنی قبیلے کا دفاع کرتی تھی اور آپ جانتے ہی ہیں جو دفاع کا نعرہ لگاتا ہے وہی مالک بن کے بیٹھ جاتا ہے اور یہ سب بھی مرد تھے۔
ان سب مسائل اور حالات کے پیش نظر قبائل اپنی نسلوں کی پرورش بھی اسی انداز سے کرتے رہے جس میں لڑکوں کو بہادری، جنگ، شکار، دفاع اور حکمرانی جیسے شعبے ملے اور لڑکیوں کو نازک کاموں میں مصروف کیا گیا۔ جب شکاری لڑکا فخر سے آکر کہتا تھا کہ میں تیسری بار جنگلی بیل کا شکار کیا ہے وہاں اسی کی بہن یہ نہیں کہہ سکتی تھی کہ میں پچھلے تین سال سے کھانا بنا رہی ہوں اور کھیتوں کی دیکھ بھال کرتی ہوں۔ پس کچھ کاموں کو کارنامے قرار دے دیا گیا اور کچھ کام، کام بھی نہیں گنے گئے بلکہ عورتوں کی روزمرہ کی ذ مہ داری کہلاۓ۔
ان کارناموں کی لمبی فہرست نے مردوں کو قبیلے کے اہم فیصلے کرنے کا، قوانین طے کرنے کا، ان میں ردوبدل کرنے کا اور توڑنے کا اختیار بھی دے دیا یعنی مرد حکمران، مرد قاضی، مرد ہی سپہ سالار اور مرد ہی حکیم بنے یوں مردوں کو دوسرے علاقوں کے سفر کرنے کا، مختلف تہذیبوں کا مطالعہ کرنے کا اور تاریخ لکھنے کا اعزاز بھی ملا۔ ہماری اس دنیا میں آج جتنا بھی مذہب، فلسفہ، تاریخ یا حکمت کا مواد موجود ہے وہ مردوں کا بتایا ہوا اور لکھا ہوا ہے۔ انبیاء، اولیا، مورخین، محدثین، حکماء، حکمران اور سائنسدان، ان سب شعبہ ہائے زندگی پر مردوں نے دس ہزار سال تک حکمرانی کی۔
آپ تاریخ میں قوانین کا جائزہ لیں تو آپ کو یقین ہو جاتا ہے کہ ان کو لکھنے والے صرف مرد ہی ہو سکتے ہیں، مثال کے طور پر چند ایک ذیل میں درج ہیں
1.
قدیم یونان میں ہر جوان لڑکی کو شادی سے پہلے چند راتیں بادشاہ یا شہزادے کے ساتھ گزارنی پڑتی تھیں پھر اس کی اصل رخصتی کی جاتی تھی۔ آپ کو پڑھ کر ایسا معلوم ہوگا لڑکی اور اس کے گھر والے اس ظلم کے آگے بے بس ہوں گے اور وہ اصلی دولہا بھی کتنا دکھی ہوگا جسکی ہونے والی بیوی کو پہلی چند راتیں کسی اور کے ساتھ بتانی پڑیں تو یقین جانیے ہرگز ایسا نہیں ہے۔ یونان کے شاہی خاندان کے مردوں کو کنواری دوشیزاؤں کی حاجت رہتی تھی وہ چاہتے تو طاقت کے زور سے بھی ایسا کر سکتے تھے مگر روتی ہوئی ڈری ہوئی لڑکیوں کی نسبت مردوں کو ہنستی ہوئی اور اپنا آپ نچھاور کرتی ہوئی لڑکیاں بھاتی ہیں۔ اس لیے اس دور کے مذہبی پیشواؤں نے فتویٰ دے دیا کہ بادشاہ کا گھر دراصل خدا کا گھرانہ ہے اور اس کے افراد خدا کے اہل خانہ ہیں پس جو بھی لڑکی خدا کے گھر میں چند راتیں گزارے گی اس کی اولاد اور رزق میں برکت ہوگی۔ چند دہائیوں کے بعد یہ حال ہو گیا کہ والدین سفارشیں کرواتے تھے کہ ان کی بیٹی کو جلد بادشاہ اپنی صحبت میں رکھے تاکہ اس کی جلد شادی ہو اور دونوں خاندان خدا کی برکتیں سمیٹ سکیں۔
2.
قدیم ہندوستان میں پروہتوں نے بھگوان کا نام استعمال کر کے بیوہ عورت کو منحوس قرار دے دیا، اس کا لوگوں سے ملنا اور خوشی کی رسومات میں شرکت کرنا تک ناممکن بنا دیا گیا، وہ صرف سفید لباس پہن سکتی تھی جو ہندوازم میں افسوس کا رنگ مانا جاتا ہے اور اسے گنجا کر دیا جاتا تھا تاکہ وہ آتے جاتے دور سے پہچانی جانے اور اس سے اجتناب کرنے میں آسانی ہو۔ اس کی دوبارہ شادی بھگوان کے شراپ کو دعوت دینا تھا اس لیے کوئی ایسی جرات بھی نہ کر سکتا تھا پس اس عورت کے زندگی ایک شرمناک جہنم بن جاتی تھی جس میں اس کا قصور فقط اتنا ہوتا تھا کہ اس کا خاوند مر گیا۔
3.
قوم موسیٰ نے جناب موسیٰ کے جانے بعد کاہنوں کے ساتھ مل کر رسم بنا دی کہ اگر کوئی شخص مر جائے یا مارا جائے تو اس کی بیوہ اس کے دوسرے بھائی کی ملکیت ہوگی، وہ چاہے تو اسے بیوی، باندی یا غلام بنا کر ساری زندگی گھر کے کاموں میں لگا سکتا ہے۔ اس ضمن میں کاہنوں کے پاس تورات کی تفاسیر میں روایات موجود ہوتی تھیں جو جناب موسیٰ کے حواریوں یعنی صحابہ کے نام کے ساتھ منسوب کی جاتی تھیں اور تقلید پسند عوام کے پاس ماننے کے علاؤہ چارہ نہ رہتا تھا۔
4.
حضرت عیسیٰ کے دنیا سے جانے کے سینکڑوں سال بعد جب اناجیل مرتب ہوئیں تو شریعت میں لکھا گیا کہ چرچ میں خداوند کی خدمت پر معمور لڑکیاں شادی نہیں کر سکتیں کیونکہ انھوں نے اپنا آپ خداوند کے سپرد کر دیا ہے اور چرچ میں موجود مذہبی پیشواؤں کو نوجوان کنواری لڑکیوں کی دستیابی میں کوئی مشکل نہ رہی۔ تاریخ ان اندوہناک واقعات سے بھری پڑی ہے جب کسی
NUN
کو حمل ٹھہر جاتا تو اس کا قتل کر دیا جاتا، یا پھر اسے چرچ سے نکال کر اسکے پورے خاندان کو علاقے سے بے دخل کر دیا جاتا یا کبھی کبھار اس کے بچے کو پیدا کر کے اسکے گھر بھیج دیا جاتا اور اس لڑکی کو چرچ کے کاموں کے لیے زندگی بھر خدمت میں مصروف رکھا جاتا۔ یہاں بھی حیرانی کی بات یہ ہے کہ والدین حسرت اور سفارش کا استعمال کرتے تھے کہ ان کی لڑکی کو چرچ میں بحیثیت
NUN
شاملِ کر لیا جائے کیونکہ ان کو پڑھایا گیا تھا کہ ایسا ہونا خداوند کی طرف سے قبولیت ہے۔
5.
مسلمانوں میں بھی حلالہ کے معاملے کو دیکھ کر دنیا حیران ہے کہ میاں بیوی میں ناچاقی کے باعث طلاق واقع ہو جائے تو بیوی کو واپس لینے سے قبل اسے کسی اور مرد کے ساتھ چند راتیں گزارنا ہوں گی اور اس میں لازماً شرطیہ طور پر لکھا گیا ہے کہ ان راتوں میں ہمبستری فرض ہے ورنہ حلالہ نہیں پورا ہوگا۔ اب سوچیں اس کو شریعت رسول مانتے ہوئے مرد اپنی بیوی کو دوسرے مرد کے ساتھ بھی سلا دیتے ہیں اور ان کی عقل و غیرت کو ذرہ سا بھی فرق نہیں پڑتا۔ کسی مصری عورت نے کہا تھا کہ طلاق عورت کی غلطی سے یا بے راہ روی سے ہوئی ہو تو مرد کا بھی حلالہ ہونا چاہیے مگر مردوں کے بنائے گئے قوانین جن کا اطلاق بھی مرد کرتے ہوں وہاں عورت کی سنوائی نا ممکن ہے۔
افریقی ادب میں لکھا ہے کہ جب تک شیر لکھنا نہیں سیکھ لیتا تب تک ہر کہانی میں انسان ہی شیر کا شکار کرتا رہے گا۔ عورت کو اپنے حق کے لیے خود کھڑا ہونا ہوگا، کوئی مرد اپنے اختیارات اور رنگ رلیوں کو خطرے میں ڈال کر عورت کے لیے آواز نہیں اٹھائے گا۔ شیرنی کو لکھنا، پڑھنا اور فیصلہ کرنا سیکھنا ہوگا تاکہ وہ مرد شکاری کے جال اور چال کے بارے میں باقی دنیا کو آگاہ کر سکے ورنہ ہر دفعہ شیرنی ہی شکار ہوگی اور شکاری فاتح ۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
تحریر: حسنین ملک