جلا ہوا قرآن
مجھے زندگی کے پہلے 35 سال تک قرآن سے اتنا ہی لگاؤ تھا جتنا ہر پاکستانی کو ہوتا ہے یعنی نہ ہونے کے برابر۔ ہمارا قرآن سے تعلق کسی نہ کسی لالچ سے جڑا ہوتا ہے پاکستانی قرآن کو اگر صبح کے وقت پڑھیں تو ثواب کی ٹوکریاں بھرنے کے لیے پڑھتے ہیں، آیت الکرسی ایڈوانس انشورنس کے طور پر استعمال کی جاتی ہے ، چار قل ہمارے سیکیورٹی گارڈ ہیں، جب ہم قران کے دل کو پکڑنا چاہتے ہیں تو سورتہ یاسین پڑھتے ہیں، کسی کی جان نکالنی ہو تب بھی سورہ یاسین عزرائیل سے ہمارا رابطہ کروا دیتی ہے اور جب ہمارے اپنے دل کو کوئی مسئلہ لاحق ہو جاتا ہے تو سورتہ رحمان دل کے سرجن کے طور پر کام کرتی ہے ، ہماری نوکری یا کاروبار کے ساتھ جب کوئی واقعہ رونما ہو جائے تو سورتہ واقعہ کی قرات، رمضان ہو تو پورا قرآن کھڑے ہو کر سن لیتے ہیں اور بقول عامر سہیل صاحب رمضان میں یعلمون اور تعلمون کے علاوہ کوئی لفظ بھی سمجھ نہیں آتا برق رفتاری کی وجہ سے۔۔۔
ﷲ قرآن میں سورتہ المائدہ آیت 44 میں فرماتا ہے
وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ
اور جو ﷲ کے نازل کردہ (قرآن) کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہی کافر ہیں
اگلی تین آیات کے اندر ہی فرمایا گیا کہ جو ﷲ کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہی ظالم بھی ہیں اور فاسق بھی۔ تین القابات اور تینوں نہایت خطرناک۔۔۔
کافر
ظالم
فاسق
پہلی دفعہ جب اس آیت پر غور کیا اور اپنے اوپر لاگو کر کے دیکھا کہ میں نے زندگی میں کتنے فیصلے قرآن میں سے دیکھنے کے بعد کیے؟ یقین جانیے ایک بھی نہیں، میں نے زندگی میں تعلیم حاصل کی، اندرون اور بیرون ملک سفر بھی کیا اور نوکریاں بھی، کاروبار بھی کیا، شادی بھی، جھگڑے بھی کیے اور صلح بھی، جائداد بھی تقسیم کی مگر کبھی قرآن سے نہیں پوچھا کہ یہ سب کیسے کرنا ہے۔ مجھے لگا جیسے میں عدالت کے کٹہرے میں کھڑا ہوں اور ہر طرف سے کافر، ظالم اور فاسق کی آوازیں مجھ پر کسی جا رہی ہیں اور میں ان کا کوئی جواب نہیں دے پا رہا، بس چپ چاپ نظریں جھکائے شرمندہ کھڑا ہوں ۔
اس شرمندگی نے قرآن کو سمجھنے کی خاطر پڑھنے پر مجبور کیا، عربی زبان بھی اسی شوق میں سیکھی اور قرآن کو ایک طالب علم کی حیثیت سے پڑھنا شروع کیا۔ میں نے جتنا بھی قرآن کو پڑھا مجھے لگا وہ مجھ سے بات کر رہا ہے میرے مسائل، میری ذہنی، جسمانی، معاشی اور معاشرتی نگہداشت کے بارے میں۔ وہ میری توجہ میرے ارد گرد موجود اللہ کی بنائی ہوئی سائنس کے کمالات کی طرف مرکوز کرنا چاہ رہا ہے، اور تو اور صرف غور و فکر کرنے کا حکم ہی تقریباً 500 دفعہ قرآن میں موجود ہے، ایک طرف حیرتوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ تھا کہ قرآن میں میرے تمام مسائل کا اتنا آسان حل موجود تھا اور مجھے پتہ ہی نہ تھا اور دوسری طرف شرمندگی تھی کہ میں نے زندگی کی اتنی دہائیاں اس نادر کتاب کو پڑھے بغیر گزار دیں۔
اس سے بڑا المیہ یہ تھا کہ مجھے اپنے علاؤہ بھی کوئی ایسا انسان نہ نظر آیا جو قرآن سے ہدایت کا استفادہ کرتا ہو, ایسا بھی نہیں دیکھا کہ ہدایت کہیں اور سے لے کر قرآن سے اس کا ثبوت ہی دیکھ لیا جائے۔ اپنی ذاتی اور اپنے ارد گرد کے معاشرے کی قرآن سے اس قدر دوری دیکھ دیکھ ڈوب مرنے کے علاؤہ کوئی چارہ نہ نظر آتا تھا. قرآن نے ایک جگہ میری یہ حالت زارِ بھی بیان کی ہوئی تھی
وَ قَالَ الرَّسُوۡلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوۡمِی اتَّخَذُوۡا ہٰذَا الۡقُرۡاٰنَ مَہۡجُوۡرًا
اور رسول کہے گا کہ اے میرے پروردگار! بیشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا ۔ (الفرقان 30)
یہ قیامت کا منظر بیان ہو رہا ہے جس میں رسول، اللہ سے اپنی قوم کا حال بیان کر رہے ہیں۔ بہت مدت پہلے ایک محفل میں بیدم وارثی صاحب کا ایک کلام سنا تھا جس میں ایک شعر نے بہت داد وصول کی
عجب تماشا ہو میدانِ حشر میں بیدم
کہ سب ہوں پیش خدا اور میں روبروئے رسولﷺ
یہ شعر یقیناَ رسولِ اللہ سے محبت میں لکھا گیا ہوگا مگر میں نے تو اپنی زبوں حالی دیکھتے ہوۓ صاف انکار کر دیا کہ مجھے بالکل بھی رسولِ اللہ کے سامنے پیش نہیں ہونا، نہ میں ان سے نظریں ملانے کے قابل اور نہ منہ دکھانے کے، اوپر سے وہ کہہ رہے ہونگے کہ اس امت کی ہدایت کے لئے میں ایک ہی کتاب لایا تھا اور ان سے وہ بھی نہیں صحیح طرح پڑھی گئی ۔
بتانے کا مقصود یہ تھا کہ میں نے تو قرآن کو کبھی ہدایت کے لئے ہاتھ نہ لگایا تھا اور اپنے ارد گرد جتنے افراد سے بھی رابطہ کیا، سب میرے جیسی حالت میں تھے، کچھ عرصہ عرب ریاستوں میں بھی رہنے اور سفر کرنے کا اتفاق ہوا مگر وہاں بھی ایسے فرد واحد کی تلاش تلاش ہی رہی۔ مجھے لگا جیسے صدیوں پہلے قرآن کو پس پردہ ڈال کر ہم اپنی اپنی زندگیوں میں، اپنے اپنے مفادات میں، اپنی اپنی شریعتوں میں اتنے مگن کر دیے گئے اور ہو بھی گئے کہ قرآن کی ضرورت محسوس کرنے والا جذبہ بھی مر گیا۔
مجھے یہ آیت تو قرآن سے مل گئی کہ رسول اللہ نے اپنی قوم سے شکوہ کیا کہ یہ قرآن کو چھوڑ بیٹھی ہے مگر ایسی کوئی آیت نہ ملی جس میں کسی دوسری قوم کے قرآن جلانے پر واویلا کیا جا رہا ہو، میں نے چند ایک ٹوٹی پھوٹی کتابیں لکھی ہیں اور مجھے زیادہ افسوس ہوگا کہ میری کسی بھی کتاب کو غلط مقصد کے لیے پڑھا جائے یا اس کا مقصد ہی بدل کے رکھ دیا جائے اس بات پر مجھے بہت کم یا شاید ہی کچھ افسوس ہوگا کہ کوئی مخالف میری کتاب کو جلا دے۔
اللہ کی کتاب کا کسی کتاب سے کوئی موازنہ ممکن ہی نہیں تو ایسی کتاب کو پڑھنے کا مقصد بدل کہ رکھ دینا اور رسول اللہ کی قوم کا اسے ہدایت کے لئے ہاتھ ہی نہ لگانا کسی غیر کے اس کتاب کو جلانے سے بہت بڑا جرم ہے۔
جس کسی نے کتاب اللہ جلائی ہے اس نے مسلمانوں کی سخت دل آزاری کی ہے اور ہم مسلمان، رسول اللہ کی دل آزاری میں صدیوں سے دن رات ایک کرتے آرہے ہیں۔
کاش! اللّٰہ ہمیں سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
تحریر: حسنین ملک