کِتٰبٍ-مُّبِیۡنٍ
کتب مبین
February 16, 2024
خدا کا قہر
April 1, 2024

جادوئی مشروب

آٹھویں صدی عیسوی کی بات ہے کہ ایتھوپیا میں ایک کلدی نامی چرواہا تھا۔ اپنی بکریاں چراتے ہوئےاس نے دیکھا کہ اس کی بکریاں تھکنے کے بجائے نہایت پھرتی سے پہاڑ پر چڑھ رہی ہیں۔ کچھ دن ایسا دیکھنے کے بعد وہ سمجھا کہ جب بکریاں ایک خاص درخت کے پتے اور اس پر لگا ہوا چھوٹا سا کڑوا پھل کھاتی ہیں تو زیادہ متحرک ہو جاتی ہیں۔ اس نے ان درختوں سے وہ بیر نما پھل کھایا تو کچھ دیر بعد اسے بھی اپنا آپ پرجوش اور چوکس محسوس ہوا۔ اس نے وہ پھل توڑ کر اکٹھا کیا اور ایک راہب کے پاس لے گیا۔ راہب کو کچھ سمجھ نہ آیا تو اس نے کہا کہ یہ شیطان کا کام ہے۔ اس نے وہ بیر نما پھل آگ میں پھینک دیے۔ جیسے ہی اس پھل کو آگ نے چھوا تو ایک نہایت بھینی روحانی خوشبو نکلی جس نے راہب اور چرواہے، دونوں کو مسحور کر دیا ۔ راہب کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور اس نے باقی بچے بیر مقدس گرم پانی میں ڈال کر رکھ دیے تاکہ خراب نہ ہوں۔

وہ راہب جب بھی اس مقدس پانی کو پیتا تو محسوس کرتا کہ اس کا دماغ جاگ گیا ہے پس راہب اس پانی کو رات کی خاص عبادات اور مراقبات میں استعمال کرتا اور آسانی محسوس کرتا۔

اس واقعہ کے سو سال بعد یمن میں ایک صوفی جو حالتِ سفر میں تھکا ہوا ایک جگہ رکا۔ اس نے دیکھا کہ کچھ پرندے ایک درخت سے بیر نما پھل کھارہے ہیں۔ وہ پرندے باقی پرندوں کی نسبت زیادہ پھرتیلے اور محرک تھے۔ اس نے اپنی تھکاوٹ دور کرنے کے لیے کچھ بیرتوڑکر کھا لیے۔ بیروں کو کھاتے ہی جیسے صوفی کی جان میں جان آگئی اور وہ تازہ دم ہوگیا ۔ اس نے وہ بیر توڑ کر ساتھ رکھ لیے اور تمام سفر میں استعمال کرتا رہا۔ وہ صوفی یمن سے ایران، عراق اور ترکی بھی گیا اور جہاں جہاں سے گزرا، لوگوں کو اس معجزاتی پھل کی کرامات بتاتا رہا۔

ان بیروں سے بناہوا قہوہ پہلی بار 1475 میں ترکی کے شہرقسطنطنیہ کے بازار میں باقاعدہ دکان پر فروخت کرنا شروع کیا گیا۔ پھر اٹلی کے تاجر سلطنت عثمانیہ کے پھیرے لگاتے ہوئے اس قہوہ کو ساتھ اٹلی لے گئے اور یوں یہ جادوئی مشروب یورپ کے دماغوں پر جادو کرنے لگا۔ اٹلی کے شہر وینس میں اس کی پہلی دکان کھلی جہاں شہر کے امراء بیٹھ کر اس قہوہ کے پیالوں کے ساتھ کاروبار اور سلطنت کے بدلتے حالات پر تبادلہ خیال کرتے۔ پھر ایسٹ انڈیا کمپنی اس جادو کے پیالے کو انگلستان لے گئی جہاں لندن میں اس کی بہت سی دکانیں کھلیں جن میں گورے مرد اس مشروب سے محظوظ ہوتے کیونکہ تب تک انگلستان میں عورتوں کو یہ اجازت اور سہولت میسر نہیں تھی کہ وہ دکانوں پر مردوں کے ساتھ بیٹھ سکیں۔ یہاں سے سلیمان آغا جو فرانسیسی بادشاہ کے سفیر تھے اس مشروب کو فرانس لے گئے اور اس کے تھیلوں پر باقاعدہ جادوئی مشروب تحریر ہوتا تھا۔ فرانس کے شہر پیرس میں دھوم مچانے کے دو سال بعد ہی یہ جادو پاسکل کے ہاتھوں امریکہ میں اپنا اثر دکھانے لگا۔

اس بیروں سے بنے ہوئے مشروب کو قہوہ کہا جاتا تھا۔ اس لفظ کو، جو کہ بنیادی طور پر عربی زبان سے تھا اور ترکوں نے عربی سے مستعار لیا تھا، جب نیدرلینڈ کی ڈچ زبان میں منتقل کیا گیا تو اسے کافی

(koffie)

کہا گیا جو انگلستان پہنچ کر انگریزی زبان میں باقاعدہ کافی

(coffee)

بن گیا اور آج تک چلتا آرہا ہے ۔

کافی عجیب مشروب ہے گرم علاقوں میں اگتا ہے اور سرد علاقوں یا سردی کے موسم میں زیادہ پسند کیا جاتا ہے ۔ برازیل دنیا میں سب سے زیادہ کافی کی پیداوار دیتا ہے جبکہ فنلینڈ میں سب سے زیادہ کافی پی جاتی ہے ۔ اٹھارویں صدی سے قبل ان علاقوں میں ناشتے کے ساتھ شراب پینے کا رواج عام تھا مگر اٹھارویں صدی سے آج تک اس جادوئی مشروب نے شراب کی جگہ لے لی اور اب دنیا میں سب سے زیادہ پی جانے والی مشروب کہلاتی ہے ۔ 1932 میں جب برازیل کے پاس اولمپک کھیلوں میں شرکت کے لیے پیسے نہیں تھے تو انھوں نے کافی بیچ کر ان کھیلوں میں شرکت کی۔ اب صرف انگلینڈ کے اندر ہی روزانہ ایک کروڑ کپ کافی پی جاتی ہے اور کافی بذات خود ایک پھل ہے۔

کافی کے بیر سبز ہوتے ہیں اور ان کو جب آگ چھوتی ہے تو یہ بدل کر گہرے براؤن رنگ کے ہو جاتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ جادو یہ انسان کے اندر کرتی ہے اور اتنا ہی بدلاؤ لاتی ہے۔ یہ ناچیز اس کے بدلاؤ کا گواہ اور ثبوت بھی ہے۔ مجھے سوچنے سمجھنے، غور و فکر کرنے اور لکھنے میں اللہ کی عطا کر دہ عقل کے بعد سب سے زیادہ سہارا اسی جادوئی مشروب نے دیا ہے۔

علم کسی بھی شے کا ہو، ضائع نہیں جاتا، چاہے

coffee

کا ہی کیوں نہ ہو کیونکہ اللہ قرآن پاک میں فرماتا ہے جو جانتے ہیں وہ بہتر ہیں ان سے, جو نہیں جانتے۔

اللہ ہمیں سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

تحریر: حسنین ملک