Dil ke Rishty
دل کے رشتے
August 27, 2023
What is peace of mind
سکون کیا ہے؟
September 3, 2023

چوپایوں کا اشرف المخلوقات

chopayon ka ashraf ul makhluqat

chopayon ka ashraf ul makhluqat

ایک گرو جی کہا کرتے تھے کہ اللہ کو سمجھنے کا آسان ترین طریقہ یہ ہے کہ انسان کو سمجھا جائے اور انسان کو سمجھنے کے ذریعوں میں سے ایک نہایت اہم ترین ذریعہ جانوروں کا مطالعہ ہے۔ نوجوانی سے یہ بات دل میں گھر کر گئی اور جانوروں سے لگاؤ ہو گیا۔ پتہ چلا کہ انسانوں کی طرح وہیل مچھلی، چیونٹیاں، شہد کی مکھی اور
بھیڑیا ان جانداروں میں سے ہے جو خاندانی نظام، معاشرہ اور کالونیاں بنا کر جیتے ہیں۔ ان جانوروں کی زندگی اور معاشرت کا مطالعہ انسان کی زندگی سے حد درجہ قریب اور عجیب تر ہے۔ ان کے ہاں بھی جذبات، رشتے اور جائداد کے مسائل پاۓ جاتے ہیں۔آئیے مل کر بھیڑیوں کی زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں،ان کو اور ان سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

بھیڑیوں کے ہاں ایسے قوانین ہیں جن پر وہ مرنا تو گوارہ کر لیتے ہیں مگر جھکتے نہیں، بھیڑئیے کے گلے میں اگر پٹہ ڈال دیا جائے تو مرتے دم تک لڑتا رہے گا مگر انسان کا غلام نہیں بنتا جبکہ کتے نے اس غلامی کو قبول کر لیا خوشی سے۔ ارتقاء کی تحقیق و تعلیمات کے دوران یہ مطالعہ مشہور ہے جس میں کچھ جانوروں کے انسانوں کے قریب آنے اور کچھ کے انسانوں سے دور رہنے کی وجہ یہی بیان کی جاتی ہے۔

بھیڑیوں کا ریوڑ اپنے ایک مخصوص علاقے میں رہتا ہے جس کے چاروں طرف بارڈر ہوتا ہے، بعض صورتوں میں یہ بارڈر 150 مربع میل سے بھی وسیع ہوتا ہے اور وہ ایک ریاست کی طرح اپنی ریاست میں دوسرے بھیڑیوں کو داخل نہیں ہونے دیتے۔ جب کوئی ریوڑ کسی موسمی یا آفاتی مجبوری کے تحت کسی دوسرے علاقے میں ہجرت کرتا ہے تو ان کو سب سے بڑا مسئلہ یہی درپیش آتا ہے کہ نیا علاقہ کسی دوسرے ریوڑ کی ریاست تو نہیں، اگر کسی دوسرے ریوڑ کی ریاست ہو تو پھر ایک نیا مسئلہ درپیش آ جاتا ہے یہاں دو ممکنہ راستے ہوتے ہیں پہلا یہ کہ کسی تیسرے علاقے کی تلاش کی جائے یا پھر اسی علاقے پر حملہ اور قبضہ کیا جائے۔

بھیڑیا ان سمجھدار جانداروں میں سے ہے جن میں اپنے بڑوں اور بزرگوں کو دھتکارنے کی بجائے ان کے تجربے سے بھر پور فائدہ اٹھایا جاتا ہے، جانوروں کے علوم پر مہارت رکھنے والے افراد اپنا تجزیہ بتاتے ہیں کہ بھیڑیوں کے جس بھی ریوڑ میں بوڑھے اور تجربہ کار بھیڑیے زیادہ ہوتے ہیں وہی ریوڑ اس ریاست کی جنگ کو جیتنے میں کامیاب ہوتا ہے کیونکہ وہ بوڑھے بھیڑئیے متعدد بار ایسی صورتحال کا سامنا کر چکے ہوتے ہیں حالانکہ کہ جوان بھیڑیوں کی تعداد دونوں طرف برابر ہوتی ہے۔

کہا جاتا ہے بھیڑیوں کا سب سے ناپسندیدہ جاندار انسان ہے، بھیڑیا ہر جاندار کے ساتھ رہ لیتا ہے مگر انسان کے ساتھ نہیں۔ وجہ بتائی جاتی ہے کہ انسان محبت کے نام پر بھی دھوکہ دیتا ہے اور بھیڑیا نہیں دیتا۔ اس طرح دو متضاد جانداروں میں سے نکلنے والی مثبت اور منفی شعاعیں کبھی آپس میں موافقت نہیں پیدا کر پاتیں۔

کم وسائل، کم آمدن یا کمی کے ساتھ پیدا ہونے والے اکثر انسان زندگی بھر اپنی کمی کا شکوہ کرتے نہیں تھکتے اور اپنی زندگی کی بیشتر ناکامیوں کا بہانہ اسی کمزوری کو بناتے ہیں مگر بھیڑیے پر غور کریں یہ جب پیدا ہوتا ہے تو پہلے دو ہفتوں تک اندھا بھی ہوتا ہے اور بہرا بھی، یہ اپنے اندھے اور بہرے پن کی رکاوٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی آواز کی مختلف حالتوں سے اپنی کیفیات یعنی بھوک، تکلیف، خوشی یا ناراضگی کا اظہار کر لیتا ہے اور بھیڑئیے کی سمجھدار ماں اپنے بچے کی آواز کے انداز سے اس پر گزرنے والی کیفیات کو بھانپ لیتی ہے۔

کسی ہندی فلم میں ہیرو اپنی ماں سے کہتا ہے ماں تم میری بات نہیں سمجھ رہی تو ماں کہتی ہے میں تب تو تمھاری سب باتیں اور ضرورتیں سمجھ لیتی تھی جب تم بول بھی نہیں سکتے تھے، اب تم بول بھی سکتے ہو اور تمھیں لگتا ہے ماں نہیں سمجھ سکتی۔ اس کے برعکس بھیڑے کا بچہ جب ایک ماہ کی عمر تک پہنچتا ہے تو اپنی ماں کی سب طرح کی آوازوں سے اس کی مرضی جان لیتا ہے اور اگر ماں خاموش ہو تو یہ اس کے چہرے کے تاثرات سے سمجھ لیتا ہے کہ ماں کیا سوچ یا چاہ رہی ہے۔ بھیڑیا جب سننے کی حس کا استعمال کرتا ہے تو کمال دکھاتا ہے، ایک عام بھیڑیا 8 میل یعنی 13 کلومیٹر تک سننے کی حس رکھتا ہے۔ آپ سوچیں اگر کوئی 8 میل تک سننے کی صلاحیت رکھتا ہو تو ہر وقت اس کے کان میں کیسی کیسی آوازیں آتی ہوں گی پھر بھی اس کی توجہ صرف ساتھی بھیڑیوں کے بھیجے گئے پیغامات پر مرکوز رہتی ہے۔ بھیڑیوں کی یہ صلاحیت بھی ہماری نفسیات کے لیے بڑا پیغام دیتی ہے کہ کیسے زندگی میں غیر ضروری شور، لوگوں اور معاملات سے اعراض برتنا چاہئے اور اپنی پوری توجہ اپنے مستقبل، ضروری اور مثبت چیزوں پر قائم رکھنی ہے۔

دماغ میں ایک خاص حصہ ہے جس کا ایک مخصوص کام ہوتا ہے کہ وہ ہمیں کسی بھی موقع پر جھوٹ، دھوکہ، منافقت یا بے وفائی کا سبق پڑھاتا ہے تاکہ ہم اس صورت حال سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوں مگر تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ ایسا انخلاء یا تو فوراً انسان کو ڈبو دیتا ہے یا پھر وقتی فائدہ پہنچا کر دائمی مصیبت کا شکار کر دیتا ہے ۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ بھیڑیوں کے دماغ میں وہ حصہ ہی نہیں ہوتا یعنی ممکن ہی نہیں ہے کہ بھیڑیا اپنوں سے بے وفائی کرے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ انسانوں کے بیچ لفظ بھیڑیا بے حسی و درندگی کی کیفیت بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے مگر یہی بھیڑیا جب ایک دفعہ کسی کو شریک زندگی بنا لیتا ہے تو مرتے دم تک یہ بندھن قائم رکھتا ہے۔ ایک نامکمل تحقیق کے مطابق بھیڑیوں کا جوڑا محبت میں مبتلا ہو جاتا ہے اور پھر وہ اس محبت کو مرتے دم تک نبھاتا ہے۔ بھیڑیوں کا تجزیہ کیا گیا تو پتہ چلا کہ بھلے انسانوں کی مانند بھیڑیوں کا جوڑا بھی اپنے ساتھی کا ساتھ نہیں چھوڑتا، نہ قحط سالی میں نہ بیماری میں حتیٰ کہ موت ہی انھیں جدا کر پاتی ہے۔ ایک انگریز محقق کے مطابق بھیڑئیے جانوروں میں رومیو اور جولیٹ کی واحد اور واضح مثال ہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا اگر بھیڑیوں کا سردار کسی لڑائی میں ایک ٹانگ کھو بیٹھے تب بھی اس کی مادہ زندگی بھر اسی کے ساتھ ہوتی ہے۔

جب دوبھیڑیے آپس میں ازدواجی رشتہ قائم کرتے ہیں تو ایسے بھیڑیوں کو الفا کہتے ہیں باقی سب بھیڑیےکبھی بھی الفا کی لڑائی میں نہیں پڑتے اور ان دونوں کے رشتے کا احترام کرتے ہوئے اپنے قبیلے کا باقی نظام سنبھال لیتے ہیں اور خود ساتھی نہیں بناتے کسی کو۔ یوں یہ الفا جوڑا سردار کہلاتا ہے اور قبیلے کی نسل کو آگے بڑھاتا ہے ۔ باقی سب اپنی ریاست کی حفاظت، دیکھ بھال اور نئے بچوں کی تربیت میں مگن ہو جاتے ہیں۔ کبھی کسی بھیڑیے کو اپنے قبیلے کو قوانین توڑتے نہیں پایا گیا۔

شیر اور چیتا یہ کام کر لیتے ہیں مگر بھیڑیا کبھی ایک جگہ کھڑے ہوئے شکار پرحملہ نہیں کرتا۔

ایک جملے میں بھیڑیوں کو بیان کرنا ہو تو کہنا چاہیے کہ بھیڑیا چوپایوں میں اشرف المخلوقات ہے

ﷲ ہمیں سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے

تحریر: حسنین ملک