معصوم گناہ
June 18, 2024
Just two things
Just Two Things
June 29, 2024

عیب نارمل

میں جہاں رہتا ہوں وہاں ایک ایسی فیملی بھی رہتی ہے جس کے بارے میں سب لوگ کہتے ہیں کہ وہ ایب نارمل ہیں۔ میاں بیوی اور دوجوان بیٹا بیٹی ہیں ان کو صبح شام کی دوائیں کھانی پڑتی ہیں ورنہ ان کا یہ ایب نارمل پن حد سے باہر نکل جاتا ہے۔

ہماری بلڈنگ میں سولہ خاندان بستے ہیں، مجھے دفتر آتے جاتے، مارکیٹ آنے جانے یا چہل قدمی کے لیے نکلتے اور پلٹتے وقت اس فیملی کے گھر کے سامنے سے گزرنا پڑتا ہے۔ اگر ان کے گھر کا کوئی فرد باہر کھڑا ہو تو وہ دور سے ہی سلام پیش کردیتا ہے میں جواب دیتا ہوں پھر وہ کہتے ہیں “کیا حال ہیں” میں خیریت بتا کر جلدی سے گزر جاتا ہوں۔ اگر میں تھوڑی دیر میں ہی واپس آجاؤں اور وہ وہیں پر ہوں تو وہ دوبارہ سلام دعا کرتے ہیں۔ وہ ایب نارمل ہیں یا تو بھول جاتے ہیں یا شاید ان کے پاس کوئی بات کرنے والا نہیں ہے تو اس لیے دوبارہ سلام کرتے ہیں۔

آج پانچ سال ہو گئے یہاں رہتے ہوئے، میں ایک بند مزاج انسان ہوں، لوگوں سے کم مل پاتا ہوں، دوست اور جاننے والے بہت کم ہیں، رابطے نہیں رکھ پاتا، اکیلے بیٹھنا اور سوچنا میری فطرت ہے اس لیے مجھے بہت ہی کم لوگ جانتے ہیں۔ مجھے کوئی جانتا نہیں اس لیے مجھے کوئی بلاوجہ سلام بھی نہیں کرتا، یہ فیملی پھر بھی آتے جاتے مجھے سلام کرتی ہے کیونکہ وہ ایب نارمل ہیں۔

نوجوانی میں حدیث کے مطالعے کے دوران ایک حدیث پڑھی تھی جس میں ہمارے نبی کریم نے فرمایا تھا کہ لوگوں کو سلام پیش کیا کرو بھلے تم انھیں نہیں جانتے۔ میں نے یہ حدیث پڑھ رکھی ہے میں پھر بھی عمل نہیں کرتا کیونکہ میں نارمل ہوں۔ اس فیملی نے شاید یہ حدیث نہ پڑھی ہو مگر وہ عمل کرتے ہیں، وہ پھر بھی ایب نارمل ہیں۔

مارکیٹ سے اگر کچھ سامان خرید کر لا رہا ہوں اور میرے دونوں ہاتھوں میں وزنی لفافے ہوں اوپر سے دھوپ یا شدید گرمی ہو اور راستے میں ان سے سامنا ہو جاۓ تو وہ کھڑے ہو کر سلام کریں گے خیر خیریت پوچھیں گے اگر وہ سڑک کے دوسری جانب ہوں تو دھوپ کا خیال کیے بغیر میری طرف آ جائیں گے۔ میں گرمی دھوپ اور وزن کی وجہ سے تنگ ہوتا ہوں جلدی سے جواب دے کر نکلنے کی کرتا ہوں۔

سیرت النبی میں لکھا ہے کہ عرب کی شدید گرمی میں جب ہمارے نبی چھاؤں میں بیٹھ کر اپنے رفقاء سے کسی اہم مشاورت میں مصروف ہوتے تھے تو وہاں ایک ایب نارمل عورت رہتی تھی جو دھوپ میں کھڑے ہو کر ہمارے نبی کو پکارتی تھی اور آپ اٹھ کر دھوپ میں چلے جاتے اور اس کی باتیں سنتے رہتے، وہ بولتی رہتی اور آپ سر ہلاتے رہتے، جب اس ایب نارمل کی باتیں ختم ہو جاتیں وہ چلی جاتی تو ہمارے نبی پسینے سے شرابور واپس آ کے بیٹھ جاتے، ساتھیوں کو برا لگتا بلکہ حضرت عمر نے تو ایک دفعہ کہہ بھی دیا کہ حضور وہ تو پاگل ہے اور آپ کو خواہ مخواہ گرمی میں پریشان کرتی ہے، آپ مسکراتے اور کہتے کوئی بھی اس کی بات نہیں سنتا اس لیے میں سن لیتا ہوں، کوئی بات نہیں ۔

کہتے ہیں انسان کی شکر گزاری ہی اللہ کی شکر گزاری ہے۔ ہماری بلڈنگ میں خواتین ایک دوسرے کے گھروں میں کچھ نہ کچھ پکا کر بھجواتی رہتی ہیں، ہمارے گھر سے ان کے گھر جب بھی کوئی کھانے پینے کی چیز جاتی ہے اور اس کے بعد ان کے بچوں سے سامنا ہو جاۓ تو وہ کہتے ہیں شکریہ انکل آپ نے ہمارے لیے فلاں چیز بھیجی۔ مجھے حیرت ہوتی ہے پندرہ نارمل خاندانوں کی نارمل مائیں اپنے نارمل بچوں کو شکر گزاری نہیں سکھا رہی، کسی بچے نے زندگی میں آج تک مجھے اس بات پر شکریہ نہیں کہا کہ ہم نے ان کے گھر کچھ کھانے کو بھیجا تھا، میرے بچے بھی نہیں کہتے۔ ایک ایب نارمل فیملی کی ماں اپنے ایب نارمل بچوں کو شکر گزاری کی تعلیم دیتی ہے اور وہ ایب نارمل بچے عمل بھی کرتے ہیں اور باقی ہم سب نارمل بڑے اپنے نارمل بچوں کو یہ نہیں سکھا رہے۔

میں نارمل ہوں اور وہ فیملی ایب نارمل ہے، عجیب بات ہے نا اور عجیب معیار بھی جو ہم سب نارمل لوگوں نے مل کر بنا رکھا ہے۔ ہم طے کریں گے کون نارمل ہے اور کون ایب نارمل۔ ہم ہر طرح کے عیب رکھتے ہوئے بھی نارمل رہیں گے اور جن کے ذہن ہماری طرح ہوشیاری اور چالاکی نہیں کر پا رہے ہوتے وہ ایب نارمل۔

مجھے لگتا ہے دنیا میں دو طرح کے لوگ رہتے ہیں ایک اس فیملی جیسے معصوم ایب نارمل اور دوسرے میرے جیسے جن کے لیے سب عیب نارمل ہیں، وہ ایب نارمل ہیں اور میں عیب نارمل ہوں کیونکہ میرے لیے عیب ایک نارمل سی بات ہے۔

یاد رکھیں ، سب عیب نارمل لوگ دوسرے عیب نارمل لوگوں کو نارمل سمجھتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

تحریر: حسنین ملک