Sirf do kam
صرف دو کام
May 26, 2024
عیب نارمل
June 23, 2024

معصوم گناہ

آج سے تیس سال قبل ایک دفعہ تین سال سے چھوٹے دو بچوں کو ایک غلط حرکت کرتے دیکھا
مجھے دیکھ کر وہ فوراً بھاگ گئے، دو باتیں مجھے حیران کر گئیں، پہلی یہ کہ دو اڑھائی سال کے بچوں میں تو ابھی بلوغت کے آثار تک نہیں ہوتے پھر وہ ایسا کام کیوں کر رہے تھے۔ یقیناً انھیں کچھ سرور آرہا ہوگا مگر اس عمر میں یہ ممکن ہی نہیں تو پھر وہ ایسا کیوں کر رہے تھے؟ دوسری حیرانی کی بات یہ تھی کہ انھیں یہ بھی معلوم تھا کہ یہ کام اچھا نہیں ہے کیونکہ مجھے دیکھ کر ان کا فوراً بھاگ جانا اسی بات کی گواہی دے رہا تھا۔

انسانی نفسیات پر ڈھیروں کتابیں پڑھیں مگر وہ اس عمر کے متعلق ایسے کاموں کا جواب دینے سے قاصر تھیں، جن سائیکالوجی اور جنسیات کے ماہرین تک میری پہنچ تھی وہ سب بھی تشنگی دور کرنے میں ناکام تھے۔ الغرض کہیں سے جواب نہ مل پا رہا تھا۔ اس واقعہ کے دس سال بعد قصور شہر میں بابا بلھے شاہ کے مزار کے قریب میں اپنی سوچوں میں مگن تھا کہ مزار سے باہر بیٹھے قوال نے ہارمونیم اور طبلہ کے سازوں کے ساتھ مل کر دھن کا آغاز کیا اور سلطان باہو کی ابیات میں سے پہلی ہی رباعی پڑھی تو مجھے یوں لگا کہ جیسے میرے حالات بھی اس کے پہلے مصرعے والے تھے

نہ رب عرش معلی اتے نہ رب خانے کعبے ہو
نہ تو رب عرش پر ہے نہ خانہ کعبہ میں ہے

سوچا مذہب اور مذہبی پیشواؤں کے پاس اس کا یقیناً کوئی جواب ہوگا۔ ایک بڑے مولوی صاحب سے بڑی مشکل سے ملاقات کا وقت لیا، ان سے پوچھا کہ بچے اس عمر میں ایسا کوئی بھی کام کیونکر کر سکتے ہیں؟ انھوں نےبتایا کہ ہو سکتا ہے مجھے غلط فہمی ہوئی ہو وہ کچھ اور کھیل رہے ہوں اور کھیلتے کھیلتے بھاگ گئے ہوں۔ مجھے جتنا وقت ملا تھا وہ اسی ناکام کوشش میں گزر گیا کہ وہ میری بات کو تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی سچ مان جاتے اور جواب کی کوئی صورت نکلتی مگر ۔۔۔

قوال کافی دیر تک پہلے مصرعے کو دہرانے کے بعد دوسرے مصرعے تک پہنچ چکا تھا

نہ رب علم کتابیں ملیا نہ رب وچ محرابے ہو
نہ رب کتابی علم میں ملتا ہے نہ مسجد و مندر کے پجاریوں کے پاس

اس کے کچھ عرصہ بعد ہی ایک دفعہ لاہور مال روڈ کے فٹ پاتھ پر کتابیں خریدتے ہوئے اشفاق احمد صاحب سے ملاقات ہو گئی، میں نے ان سے پوچھا کہ کچھ پوچھ سکتا ہوں انھوں نے کہا ضرور، میں نے عرض کی

گناہ کی لذت انسان کو پہلے دی گئی اور گناہ کا شعور بعد میں تو کیا یہ انسان کی ساتھ ناانصافی نہیں ہے؟

وہ پہلے تو بولے کہ ناانصافی کس طرح سے ہوئی؟

میں نے وضاحت پیش کی کہ گناہ کی لذت دو سال کی عمر میں مل گئی اور بچے نے گناہ کرنا شروع کر دیا کیونکہ اسے سرور آتا تھا مگر ابھی عقل و شعور ہے نہیں کہ وہ اس گناہ کو گناہ سمجھے اور اصلاح کرے۔ جب تک اصلاح کی عمر آۓ گی وہ اتنا عادی ہو چکا ہوگا کہ چھٹکارا مشکل ہو جائے گا۔

وہ کہنے لگے گناہ کی لذت اور شعور ایک ساتھ آتا ہے

میں نے کہا حضرت! شعور تو کبھی اٹھارہ سال سے پہلے نہیں نمودار ہوتا بلکہ کئی لوگ تو اس عقل کے مقام کو پچیس یا تیس سال کی عمر میں حاصل کر پاتے ہیں تب تک کتنے ہی لوگ اپنے اپنے گناہوں کی دلدل میں اتنا دھنس چکے ہوتے کہ انھیں دلدل میں ہی سکون محسوس ہوتا ہے اور وہ اس سے باہر نہیں نکلنا چاہتے۔

خیر میں انھیں اس بات پر نہیں منا سکا کہ لذت پہلے ملتی اور شعور بعد میں اور یہ عدل کے خلاف ہے۔ شاید میرا سوال ہی فضول تھا یا انکے پاس اسکا جواب نہیں تھا۔

ایک دفعہ اشفاق صاحب کے گھر جانے کا اتفاق ہوا، وہاں بانو آپا (آپا میں نے ان کو اسلیے کہا کہ سب انھیں ایسا ہی کہتے ہیں وگرنہ وہ اس وقت بھی میری دادی کی عمر کی تھیں) سے ملاقات ہو گئی اور میں نے یہی پلندہ انکے آگے بھی کھول دیا۔ انھوں نے وہی راجہ گدھ والی کہانی سنائی جس میں بچوں کو ایسے مسائل کا سامنا اس لیے کرنا پڑتا کہ انکے والدین نے رزق حرام کھایا ہوتا جو اگلی نسل میں منتقل ہو جاتا ہے۔

میں نے عرض کی کہ ان بچوں کا اس میں کیا قصور؟

تو انھوں نے گفتگو کو رزق کی سائنس و فلسفہ سے نکال کر مذہب کی طرف موڑ دیا کہ ان کو جنت میں اجر ملے گا فلاں فلاں فلاں۔

یعنی بچہ ساری زندگی گناہ کرتا رہے یا پاگل پن کا شکار رہے صرف اس وجہ سے کہ اس کے والدین نے حرام کھایا ہوگا، یہ اس ہستی کا عدل نہیں ہو سکتا جسے میں خدا مانتا ہوں۔

سلطان باہو جیسے میرے کان میں اگلا مصرعہ بول رہے ہوں

گنگا تیرتھ مول نہ ملیا، پینڈے بے حسابے ہو
تیرتھ یاترا یا حج جیسی رسومات میں بہت پھیرے لگاۓ مگر اس کا مقصد حاصل نہ ہو سکا

عام انسان، عام طالب علم، عام تلاش میں نکلنے والا، سالک یا کھوجی جب اپنی کھوج پر نکلتا ہے تو مذہبی پیشواؤں، خانقاہوں، لکھاریوں، خطیبوں اور مقرروں تک ہی پہنچتا ہے اور میں نے ان میں سے کسی کونے کو نہیں چھوڑا۔ مگر بے سود۔ اکثریت کے نزدیک یہ سوال ہی غلط تھا اور اقلیت کے نزدیک اللہ جنت میں حساب برابر کر دے گا۔

مجھے یقین تھا کہ میں کوئی پہلا شخص نہیں ہوں جسے اس طرح کے سوالات ستاتے ہوں اور نہ ہی میں پہلا کھوجی تھا جو کھوجنے نکلا ہو۔ مجھ سے پہلے اگر لاکھوں اس راہ پر چلے ہیں تو سینکڑوں نے منزل پائی ہوگی۔ اور منزل پا کر پلٹنے والا سچا کھوجی پہلا کام یہ کرتا ہے کہ راستے میں نشانیاں چھوڑتا آتا ہے تاکہ اس کے بعد میں آنے والوں کو رہنمائی ملتی رہے اور انھیں پھر سے ان مشکلات میں سے نہ گزرنا پڑے۔

تو اگلا سوال یہ تھا کہ پھر وہ سب جوابات وہ نشانیاں کہاں ہیں؟ کیا کسی تحریر سے ملیں گے تقریر سے یا تدبیر سے؟

حضرت عیسیٰ سے چھ سو سال قبل اور آج سے تقریباً دو ہزار سال پہلے چین میں ایک فلسفی، ایک سیانہ، ایک منزل پانے والا اور اسے لوگوں تک پہنچانے والا شخص لاؤذی تھا اس کی شخصیت پر بات کرنے کے لیے الگ کتب درکار ہوں گی، میں اس کی فقط ایک سطر کا سہارا لینا چاہتا ہوں، لاؤذی نے اپنی تلاش کے نچوڑ کو اس طرح پیش کیا تھا

جب شاگرد تیار ہو جاتا ہے تو استاد خود سامنے آ جاتا ہے

مجھے اس مصرعے پر یقین کی حد تک یقین ہے کیونکہ میں اپنی زندگی میں سینکڑوں بار اس صورتحال سے گزرا ہوا ہوں۔ اس مصرعے کا برعکس میں نے خود سے بنا لیا تھا کہ جب تک شاگرد ہی تیار نہیں تو استاد نہیں مل سکتا یا دیگر الفاظ میں جب تک متلاشی ہی نہیں نکلا، راہنما کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔

مجھے تلاش تھی پس مجھے جواب مل گیا، طبلے کی تال اور ہارمونیم کے سر دونوں مل کر سلطان باہو کی رباعی کے آخری مصرعہ سے فضا کو معطر کر رہے تھے

جد دا مرشد پھڑیا باہو مک گئے کل عذابے ہو
جب سے راہ دکھانے والا ملا ہے، تلاش کے ہر عذاب سے جان چھوٹ گئی ہے

سلطان باہو کی بھی اور میری بھی۔

اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

( جاری ہے)

تحریر: حسنین ملک