سیرو فی الارض
سیرو فی الارض
January 5, 2024
مردانگی
مردانگی
February 7, 2024

صاحبہ و صاحب (قسط نمبر 1)

صاحبہ و صاحب

آپ کو پتہ ہے عورتوں کے بہت سے نام مردانہ ناموں میں سے نکال کر رکھے گئے ہیں مثلاً

رضوانہ
طاہرہ
صدیقہ
جمیلہ
شکیلہ
نفیسہ اور دیگر سینکڑوں

یہ پرانے عربی نام ہیں جس میں مذکر نام کے آگے ۃ لگا دی جاتی تھی اور مونث نام بن جاتا تھا ۔ اس کے پس پردہ کچھ تاریخی اور معاشرتی حقائق ہیں جو چند صدیاں قبل از اسلام سے ہیں ۔

یہ وہ دور تھا جب عورتوں کے حقوق کے بجائے عورتوں کے استعمال پر قوانین مرتب کیے جاتے تھے کہ جب کسی کا باپ مر جانے گا تو وہ کس کی ملکیت ہوگی جب کسی کا خاوند نہیں رہے گا تو کس کی خادمہ یا باندی بنے گی، جس کا کوئی مالک نہیں ہوگا اس کا مالک کون سا مرد ہوگا۔ ان سب مراحل کے دوران یقیناً کسی عورت سے پوچھنا کہ اس کے ساتھ کتنا اور کیسا برا سلوک کیا جاۓ ، ہر گز ممکن ہی نہ تھا۔

کہا جاتا ہے کہ اسی دور میں ایک قبیلہ میں یہ رواج بھی قائم تھا کہ سردار کا بیٹا ہی اگلا سردار ہوگا اور یہ سلسلہ کامیابی سے چلا آ رہا تھا ۔ ایک سردار کے ہاں اولاد نہیں ہوئی ، اس کی بیوی کا بہت علاج کروایا گیا مگر بے سود۔ سردار نے بہت سی شادیاں کیں مگر پھر بھی نامراد رہا کیونکہ ہر بار اولاد نہ ہونے پر آنے والی سردارنی کا ہی علاج کیا جاتا تھا۔ آخرکار وہ بوڑھا ہو گیا تو اس نے کچھ سیانوں کو مشورہ کے لیے بلوایا جس میں اس کا مشیر خاص بھی شامل تھا۔ جب ان سب نے اس مسئلہ کو سنا تو متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ سردار کی ایک اور شادی کی جاۓ اور اس بار ایسی لڑکی تلاش کی جاۓ جو لاوارث ہو مگر حاملہ ہو۔ خوب تلاش کے بعد ایسی لڑکی سے شادی کر دی گئی اور یوں سردار کی نرم دلی اور صلہ رحمی کا ڈنکا بجایا گیا کہ سردار نے ایک بے سہارا اور حاملہ کو اپنے محل کی شان بنا لیا۔

چند ماہ گزرنے کے بعد اس نئی سردارنی کے ہاں جب اولاد ہوئی تو لڑکی پیدا ہوئی ۔ لڑکی کا نام مشیر خاص کی مشاورت سے صاحبہ رکھا گیا۔ اب ایک نیا مسئلہ کھڑا ہو گیا کہ قبیلہ کی سردار ایک لڑکی کیسے ہو سکتی ہے ۔ پھر سیانے بیٹھ گئے کہ سرداری کا مسئلہ کیسے حل کیا جائے کیونکہ ان کا قانون ،رواج اور غیرت گنوارا ہی نہیں کر سکتی تھی ایک عورت کو سردار کے طور پر ۔

خیر وقت گزرتا گیا، لڑکی جوان ہو رہی تھی اور معاملہ جوں کا توں تھا کہ سردار کا انتقال ہو گیا۔ کچھ روز بعد جب سرداری کا معاملہ قبیلے میں درپیش ہوا تو پھر سے سب سیانے سر جوڑ کر بیٹھ گئے ۔ مشیر خاص نے تمام سیانوں کو جو کہ سب مرد تھے، یہ بتایا کہ اگر لڑکی کو سردار بنا بھی دیا جائے مجبوری میں تو لڑکی کا نام صاحبہ ہے، صاحبہ ادھورا نام ہے کیونکہ صاحبہ کسی صاحب کی ہی ہو سکتی ہے، بغیر صاحب کے صاحبہ کا وجود کیسا، تمام قبائل ہمارا مذاق اڑائیں گے ۔

عرب چونکہ اپنی زبان پر فخر اور عبور رکھتے تھے ، اس کے کلام اور ادب کے قائل تھے اس لیے یہ ماننا کوئی مشکل نہ تھا کہ صاحبہ جس کا کوئی صاحب نہ ہو وہ حکمران نہیں ہو سکتی ۔ یہ خلاف منطق و اصولِ زبان تھا

کافی غور و خوض کے بعد یہ طے پایا کہ مشیر خاص کا بیٹا جو لڑکی سے دو سال بڑا بھی ہے، جس کا نام صاحب ہے اس سے لڑکی کا بیاہ کر دیا جائے اور اسی لڑکے کو قبیلے کا سربراہ مقرر کیا جائے ، اس طرح سردار کا گھرانہ بھی سرداری میں شامل رہے گا اور زبان کے اصولوں کے اعتبار سے صاحب حکمران ہوگا اور صاحبہ اس کے زیر اطاعت ۔

یہ واقعہ اتنا ہی ہے مگر اس کے اثرات صدیوں تک مردوں کے ازہان پر ایسے ثبت کر دیے گئے کہ وہ کسی صاحبہ کے وجود کو ہی تسلیم نہیں کر پاۓ اور صاحب کے بغیر کسی بھی صاحبہ کا نہ تو کوئی حق تھا نہ مداوا۔ آپ آج بھی ان عورتوں کو سنیں جو ٹیلی ویژن پر آکر عورتوں کو حقیقی اسلام سکھا رہی ہوتی ہیں تو آپ حیران ہوں گے کہ وہ
کیسے اللہ کی ایک مکمل خود مختار مخلوق یعنی عورت کو نامکمل ثابت کر دیتی ہیں تاکہ اس کا خود کا کوئی وجود باقی نہ رہے ۔ اب مردوں کو یہ کام کرنے کی بھی محتاجی نہیں رہی۔

مگر اس کے برعکس ہم قرآن کو دیکھیں تو آپ حیران ہوں گے کہ قرآن میں جو چند الفاظ سب سے زیادہ بار استعمال کیے گئے ہیں ان میں سے ایک لفظ ایمان ہے اور ایمان کی عملی تعریف صرف ایک بار بیان کی گئی ہے کہ ایمان کی مثال کیا ہے ؟

وَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوا امۡرَاَتَ فِرۡعَوۡنَ
اور اللہ تعالٰی نے ایمان والوں کے لئے فرعون کی بیوی کی مثال بیان فرمائی (التحریم 11)

آٹھ سو سے زیادہ بار ایمان لفظ استعمال کیا گیا مگر جب ایمان کی مثال پیش کرنے کی باری آئی تو کسی مرد، سورما یا عالم کو بطور مثال نہیں پیش کیا گیا بلکہ ایک عورت کو، جو نہ حکمران ہے نہ عالمہ ہے نا مزہبی رسومات کو ادا کر سکتی ہے نہ ان کا پرچار ، فقط ثابت قدم ہے ۔ یہ ایک عورت پوری دنیا میں رہتے دم تک تمام ایمان والوں کے لئے اللہ کے نزدیک سب سے بہترین عملی نمونہ ہے ، یہ ایک ایسی صاحبہ ہے جس کا صاحب اس کے بالکل برعکس ہے اس لیے اس صاحبہ کا یہ مقام کسی صاحب کی وجہ سے نہیں ہے ، اس کا اپنا ذاتی اور صفاتی ہے ۔ اللہ نے اس دلیل سے ثابت کر دیا کہ کوئی صاحبہ کسی صاحب کے مرہون منت نہیں ہے ۔

صاحبہ کو یقین ہونا چاہیے کہ دنیا میں کسی بھی صاحبہ کو اپنا مقام پیدا کرنے کے لیے کسی بھی صاحب کی محتاجی نہیں ہے ۔

یہ وہ غبار جسے ہمیں اپنے دماغوں سے جھاڑنا ہے ورنہ ہم ایسی صاحبہ کا صاحب ہوتے ہوئے بھی دنیا کے بدترین انسان یعنی فرعون شمار ہوں گے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

جاری ہے ۔۔۔

تحریر: حسنین ملک