مُّبِیۡنٍ، یہ عربی زبان کے مادہ بین سے نکلا ہے البین کا مطلب ہوتا دو چیزوں کو اتنی وضاحت سے الگ کر دینا جس کے بعد ان کا ملنا ناممکن ہو جائے ۔ اس کا اطلاق کسی بھی چیز ، معاملہ یا عقیدہ پر کیا جا سکتا ہے ۔
قرآن میں یہ لفظ مختلف اشکال میں استعمال ہوتا ہے جیسا کہ
بَیۡنَ
الۡبَیِّنٰتِ
تَبَیَّنَ
بَیَّنَّا
مُّبِیۡنٌ
بَیِّنَۃٍ
تَّبَیَّنَ
الْمُسْتَبِينَ
اور دیگر استعمالات بھی۔ مگر جہاں بھی یہ لفظ نظر آۓ تو ہم اس کے معنی دیکھتے ہیں کہ یہ روشنی دیتا ہے تاکہ ہم اندھیروں سے بچ سکیں ۔ یہ ہدایت دیتا ہے تاکہ ہم گمراہی سے بچ سکیں ، یہ ایمان و کفر کے درمیان ایک لکیر کھینچنا ہے تاکہ کوئی ان کو ملانے کی کوشش نہ کر سکے۔
سورتہ انعام کی آیت 59 میں یہی مادہ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ کی شکل میں آیا ہے۔
سورتہ مائدہ آیت 15، انعام آیت 59، یونس 61، ھود 6، یوسف 1، اشعراء 2، نمل 1 اور 75، سباء 3، زخرف 2 اور الدخان 3 میں بھی یہی مرکب استعمال ہوا ہے۔ جو لوگ بنیادی عربی زبان جانتے انھیں پتہ ہے کہ یہ مرکب ہے مگر ہم سب کی آسانی کے لیے اس کی گرامر کا آسان تجزیہ کرتے ہیں ۔
مرکب دو یا دو سے زیادہ الفاظ کے مجموعے کو کہتے ہیں جو کچھ خاص قوانین کے مطابق ساتھ ملاۓ گۓ ہوں اور ایک بامعنی مطلب بناتے ہوں ۔ مرکب کی مختلف اقسام ہوتی ہیں جس میں ایک قسم ہے مرکب توصیفی ۔ یہ ایسے مرکب کو کہا جاتا ہے جس میں کسی بھی انسان ، جگہ یا چیز کی صفت بیان کی جا رہی ہو۔ مرکب توصیفی کے دو اجزاء ہوتے ہیں پہلا جز موصوف کہلاتا ہے اور دوسرا صفت۔ موصوف عام زبان میں اس شخص یا چیز کو کہتے ہیں جس کی کوئی خوبی یا خامی بیان کی جا رہی ہو اور صفت اس خوبی یا خامی کو کہا جاتا ہے ۔
اردو سے اس کی آسان مثال لیتے ہیں ، اگر ہم کہیں کہ حامد اچھا انسان ہے تو گرامر کے مطابق حامد موصوف ہے اور اچھا انسان ہونا اس کی صفت ۔ اسی کے برعکس کہا جائے کہ فرعون ظالم تھا تو فرعون موصوف ہوا اور ظالم ہونا اسکی صفت۔
اب صفت و موصوف کی سمجھ پانے کے بعد ہم آسانی سے اس مرکب توصیفی کا تجزیہ کر سکتے ہیں کتاب موصوف ہے اور مبین ہونا اسکی خوبی یعنی صفت ہے ۔
کتاب کے بارےمیں ہم سب جانتے ہیں اللہ اپنے قوانین ،احکامات، اقوال و آیات کو کتاب کہتا ہے ۔ یہ مرکب توصیفی ہمیں بتا رہا ہے کہ اللہ کے تمام
قوانین ،احکامات، اقوال و آیات مبین ہیں ۔ آئیے اب مبین کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
بین کا مطلب ہم پہلے جان چکے ہیں کہ اس شے کو کہتے ہیں جو اتنی واضح ہو کہ اسے دوسری مخالفت شے سے ملانا ناممکن ہو۔ روشن ہو یعنی ہر قسم کی تاریکی سے پاک۔ شروع میں میم کا اضافہ اس لفظ کو آگے آنے والی صفت کا حامل بنا دیتا ہے جیسا کہ
مکتب میں کتب سے پہلے میم لگا ہے اور مکتب کا مطلب ہے ایسی جگہ جسکے اندر کتب ہوں، مکتب کے باہر کتب ہوں تو اسے مکتب کہنا غلط ہوگا، لغوی اور اصطلاحی اعتبار سے بھی ۔
مقتل میں قتل سے پہلے میم لگا اور مطلب ہوگا ایسی جگہ جہاں قتل ہوتا ہو۔
مشرک اس انسان کے لیے استعمال ہوگا جس کے اندر شرک ہو۔
ایسے ہی مبین اس مواد کے لیے استعمال ہوتا ہے جس کے اندر وضاحت ہو، جس کے اندر روشنی پائی جاتی ہو، اگر وضاحت کی ضرورت باہر سے پڑجاۓ تو اسے مبین کہا ہی نہیں جا سکتا۔
پس اب آسانی سے اس مرکب کِتٰبٍ مُّبِیۡنٍ کا ترجمہ کیا جا سکتا ہے اور سمجھا بھی۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے دیے گئے احکامات و قوانین جو نہایت واضح ، روشن اور ملاوٹ سے پاک ہیں اور ان کے لیے کسی بیرونی وضاحت کی محتاجی نہیں ہے ۔
یہی عربی زبان کی خوبصورتی ہے کہ اس میں ایک میم کی سمجھ آجانے سے انسان کی زندگی آسان اور اخرت خوبصورت بن جاتی ہے ۔
اللہ تعالیٰ ہمیں کتاب مبین کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
تحریر: حسنین ملک