مردانگی
مردانگی
February 7, 2024
کِتٰبٍ-مُّبِیۡنٍ
کتب مبین
February 16, 2024

عظیم بدھا اور تین جانور

عظیم بدھا اور تین جانور

عظیم بدھا اور تین جانور

بدھ مت میں انسانی نفس کی تربیت، اصلاح اور ترویج اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام ممکنہ ذرائع کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ بدھا نے جب انسانوں کو تبلیغ کی تو انسانوں کی مختلف اقسام کو دیکھتے ہوئے ترویج نفس کے کے لیے مختلف طرائق کا استعمال کیا اور انھیں بنیادوں پر بعد میں بدھ مت کے مختلف فرقے بھی وجود میں آئے ۔ جن قوانین پر بدھ مت کے تمام فرقے آج بھی متفق ہیں وہ انسانی نفس کی اصلاح اور اسے مکتی یعنی دائمی سکون کی منزل تک پہنچانا ہے ۔ اس ضمن میں تین جانوروں کی اصطلاح پیش کی جاتی ہے۔

بدھا کہتے ہیں کہ دنیا کے تمام انسان تین سواریوں پر سوار ہیں اور تینوں سواریوں کے آگے تین مختلف جانور ہیں جو ان کو منزل کی طرف لے جا رہے ہیں ۔

پہلی سواری کے آگے بھیڑ ہے ، بھیڑ پر تحقیق بتاتی ہے کہ بھیڑ اپنے بچاؤ کے لیے بھاگتے وقت پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتی، اسے بس اپنی نجات کی فکر ہوتی ہے وہ یہ نہیں سوچتی اور نہ سوچنا چاہتی ہے کہ باقی بھیڑوں کا کیا بنا، وہ بس بھاگتی ہے۔ بھیڑ کی رفتار کچھ زیادہ نہیں ہوتی جس کی وجہ سے اس کیلئے پیچھے مڑ کر دیکھنا نسبتاً آسان ہے مگر اس کے باوجود وہ نہیں جاننا چاہتی کہ باقی بھیڑیں کس حال میں ہیں ۔ وہ فقط اپنی مکتی، اپنے سکون اور اپنی نجات پر مرکوز رہتی ہے ۔ کسی دوسری بھیڑ کے سکون کی پروا کیے بغیر ۔ اس سواری پر سوار لوگ بھیڑوں کی طرح ہوتے ہیں ، بھیڑوں کی طرح سوچتے ہیں اور ذاتی مفادات کے لیے سرپٹ بھاگتے ہیں ۔

دوسری سواری کو ہرن کھینچتی ہے اور ہرنوں کے مطالعہ سے بدھوں نے سیکھا کہ ہرن جب اپنی نجات یعنی جان بچانے کے لیے بھاگتی ہے تو اسکی رفتار بھیڑ سے تین گنا زیادہ ہوتی ہے اس کے باوجود ہرن مڑ مڑ کر باقی ہرنوں کی طرف دیکھتی رہتی ہے کیونکہ اسے اپنے ساتھ ساتھ دوسری ہرنوں کی نجات اور سکون کی فکر لاحق ہوتی ہے ۔ یہ انسانوں کی دوسری قسم ہے جو اپنے لیے سکون یا مکتی کا سوچتے وقت اپنے ساتھیوں کو ہمراہ رکھنے کے قائل ہوتے ہیں ۔

آخری سواری کا سپہ سالار بیل ہوتا ہے ، بیلوں پر غور کرنے سے علم حاصل ہوتا ہے کہ بیل پر جتنا بھی وزن ڈال دیا جائے وہ چلنے سے انکار نہیں کرتا اور نہ اسے پریشانی لاحق ہوتی ہے کہ وہ کتنے بیلوں کا وزن اٹھاۓ ہوۓ ہے ، اس کا واحد مقصد دوسروں کی نجات ہے ، دوسروں کی مکتی کو وہ اپنی مکتی سمجھتا ہے اس لیے وہ بس چاہتا ہے کہ باقی سب کو سکون کی منزل مل جائے ۔ بیل دوسروں کی آسانی کے لیے قربان ہونا پسند کرتا ہے، شکوہ کے بجائے شکر ادا کرتے ہوئے ۔

میں نے مدتوں ان تعلیمات پر غور و فکر کرنے اور پرکھنے سے ان میں کچھ اضافہ کرنے کی جسارت کی ہے۔ میری ذاتی رائے یہ ہے بیک وقت ایک انسان بھی ان تینوں مراحل سے گزر سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے وہ بھیڑوں میں پیدا ہوا ہو جوانی میں ہرنوں کے بیچ بھاگتا ہو اور پھر آہستہ آہستہ بیل کی زمہ داری اٹھا لے۔ ایک اور ممکن صورت یہ بھی نظر آتی ہے کہ ایک انسان ایک ہی وقت میں کچھ لوگوں کے لیے بھیڑ ، کچھ دوسرے افراد کے لیے ہرن اور کسی تیسرے گروہ کے لیے بیل کا کردار نبھا رہا ہو۔ ایک تیسری صورت یوں بھی ہوگی کہ کوئی انسان کسی ایک معاملہ میں ، کسی ایک منظر میں ، کوئی ایک فیصلہ کرتے وقت بھی ان تینوں مراحل کو مدنظر رکھتا ہو اور اس میں سے کسی ایک کا انتخاب کرتا ہو کہ اسے یہاں ہرن ، بھیڑ یا بیل میں سے کون سا کردار نبھانا ہے۔

اپنا تجزیہ کرنے کی بات یہ کہ اگر ہم بھیڑ کی سواری میں سوار ہیں تو آج ہی اس سے اتر کر ہرن کی سواری بن جائیں اور اگر اپنا تجزیہ یہ بتا رہا ہو کہ ہم ہرن کی سواری ہیں تو کبھی کبھی بیل گاڑی پر سوار ہونے کا تجربی بھی کرنا چاہیے ۔ اگر حقیقتاً آپ بیل گاڑی پر سوار ہیں تو ہر لمحہ دھیان رکھیں کہ کہیں کوئی فیصلہ کرتے وقت ، کوئی موڑ مڑتے وقت کہیں ہم بھیڑ کے ہمراہ تو نہیں چلنے لگے ۔ یہی زندگی کا اصل ارتقاء ہے۔

انسانی نفسیات کے مطالعہ اور اس پر غور وفکر کی خوبصورتی یہی ہے کہ آپ جتنا سوچتے ہیں اس میں پیاز کے چھلکوں کی طرح ایک ایک کر کے چھلکا اترتا جاتا ہے اور ایک نیا منظر سامنے آتا جاتا ہے ، میں نے عظیم بدھا کی تعلیمات کو آپ کے سامنے رکھا اور اس میں اپنی محدود سی عقل کو استعمال کر کے اپنے نقطہء نظر کا اضافہ کر دیا ہے اور آپ کی عقلوں کو دعوت دی ہے کہ اس سے اگلے چھلکے آپ خود اتاریں گے ۔

بقول اقبال

وہی جہاں ہے ترا جسے تو کرے پیدا

اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے

تحریر: حسنین ملک