Jala hua Quran
جلا ہوا قرآن
August 24, 2023
chopayon ka ashraf ul makhluqat
چوپایوں کا اشرف المخلوقات
August 31, 2023

دل کے رشتے

Dil ke Rishty

Dil ke Rishty

ہماری زیادہ تر محفلوں میں دوست، اپنے اپنے رشتہ داروں سے نالاں، ناخوش یا پھر کہیں قطع تعلقی کی حد تک پہنچے نظر آتے ہیں اور اپنے رشتہ داروں کے قصے سناتے ہیں جس کے آخر میں رشتہ دار ظالم اور ہم مظلوم ثابت ہو جاتے ہیں ۔ یہ قصے اپنے دوستوں کو سنانے کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے نزدیک دوست رازدار بھی ہیں اور مخلص بھی۔ آپ اس بات سے اتفاق کیے بغیر نہیں رہ سکتے کہ ہمارے ملک کے ننانوے فیصد افراد اپنے رشتہ داروں کو اچھا یا مخلص نہیں سمجھتے ۔ یہ بات سن کر میرا پٹھان دوست کہتا ہے کہ تمھارا فارمولا غلط ہے، اصل میں ننانوے فیصد نہیں ، صرف پچاس فیصد افراد اپنے رشتہ داروں کو ایسا سمجھتے ہیں ، میں جب پوچھتا ہوں کہ باقی پچاس فیصد کیا کرتے ہیں تو وہ کہتا باقی پچاس فیصد ان پچاس فیصد کے ہی رشتہ دار ہیں اور وہ بھی کہیں بیٹھ کر ان کے بارے میں یہی کہہ رہے ہوتے ہیں ۔ وہ مزید روشنی ڈالتے ہوئے کہتا ہے کہ اگر کسی کے لیے دل سے سوچنا پڑے تو سمجھ لو رشتہ دار نہیں ہے اور کسی کے لیے ہر وقت دماغ کھپ رہا ہو تو سمجھ جاؤ وہ رشتہ دار ہے۔

انسانی نفسیات کا طالب علم ہونے کے ناطے مجھے تجسس رہتا تھا کہ میں اس قومی المیے کی وجوہات جان سکوں اور آج تک بھی اسی کے ایک خاطر خواہ جواب کا منتظر ہوں ۔

قرآن کا مطالعہ کرتے کرتے دو لفظوں نے مجھے اپنی طرف زور سے متوجہ کیا ، پہلا لفظ تھا الارحام ، یہ ارحام کا اسم معرفہ ہے اور اس کا واحد رحم ہے، ارحام کا معنی وہ لوگ ہیں جو ایک عورت کے رحم سے پیدا ہوئے ہوں بلکل جیسا کہ ایک دادی کی اولاد اور ایک نانی کی اولاد ، ان دو رحموں کو جمع میں ارحام پکارا جاتا ہے اور اس کا عمومی مطلب ہمارے والد اور والدہ کی طرف سے رشتہ دار ہیں اور شاید جب رشتہ داروں کے شکوے چل رہے ہوتے ہیں تو انھیں ارحام کی بات ہو رہی ہوتی ہے ۔ اب ان دونوں میں سے بھی اکثریت اپنے والد کی طرف کے رشتہ داروں کی برائی زیادہ کیوں کرتے ہیں یہ ایک الگ اور نہایت توجہ طلب موضوع ہے مگر اس وقت ہم تمام ارحام کی ہی بات کریں گے۔ 

دوسرا لفظ اقربا ہے جو قرب کے مادہ سے بنا ہے ۔ اس کا مطلب قریب کے افراد ہیں جو دل و دماغ سے قریب ہوں ، قرب میں وہ افراد ہوتے ہیں جن سے قرب ہو، ان سے رحم کا رشتہ ہونا ضروری نہیں ہے ۔ پس ارحام وہ ہیں جن سے خونی رشتہ ہے اور اقرباء وہ ہیں جن سے دل کا قرب ہو۔ ارحام میں صرف رشتہ دار آتے ہیں اور اقرباء میں قریبی افراد ہیں جن میں رشتہ دار بھی شامل ہوں سکتے ہیں اگر وہ بھی دل سے قریب ہوں۔  

قرآن میں ارحام والے رشتہ داروں کا تذکرہ صرف 4 بار اور قرب والے لوگوں کا ذکر 22 بار آیا ہے ۔ یہ اعداد شمار واضح نشانی ہیں جو انسانی نفسیات کے عین مطابق ہے۔ انسان اپنے سے قرب رکھنے والے لوگوں کو ہی ہم خیال، ہم سفر اور ہمراز بناتا ہے جبکہ رشتہ داروں کو ایک رحم سے ہونے کی وجہ سے جھیل تو لیتا ہے مگر اپنائیت نہیں پیدا ہو پاتی ۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے بھی قرآن کریم میں ارحام کی نسبت اقربا پر پانچ گنا زیادہ زور دیا ہے ۔

علم نفسیات کے مطابق انسان اسی کے ساتھ راحت محسوس کرتا ہے جس سے خوف نہ ہو یا جس کے بارے میں یقین ہو جائے کہ اسے ہم سے کوئی لالچ نہیں ہے، یہ بات بھی صد فیصد درست نظر آتی ہے کیونکہ ہماری عدالتوں میں آج بھی 16 لاکھ مقدمات فیصلے کے منتظر ہیں جو صرف جائداد یعنی پراپرٹی کے متعلق ہیں اور ان 16 لاکھ میں سے ننانوے فیصد مقدمات نہایت قریبی رشتہ داروں کے مابین ہیں کیونکہ وراثتی جائیدادوں کی تقسیم کے وقت ہمارے اندر کا لالچ ابھر کر رشتوں سے بلند ہو جاتا ہے اور رشتے چھوٹے پڑ جاتے ہیں ۔

دوسرا پہلو دیکھئے ، ہمارے ملک میں 68 فیصد شادیاں رشتہ داروں یعنی کزنز کے بیچ میں ہوتی ہیں جو دنیا کے سب سے زیادہ اعدادوشمار رکھنے والے ممالک میں سے ایک ہے ۔ اس کے انسانی صحت پر نقصانات اور موروثی بیماریوں کا پھیلاؤ ایک اور گھمبیر ترین صورتحال ہے مگر ابھی ہم صرف طلاق کے موضوع تک محدود رہیں گے ۔پاکستان میں ایک کروڑ 70 لاکھ طلاق یافتہ افراد ہیں جن میں سے ایک کروڑ دس لاکھ طلاقیں رشتہ داروں یعنی کزنز کے مابین ہوئی ہیں اور یہ رشتہ داروں کے درمیان طلاق اکثر پورے خاندان کو دو حصوں میں بانٹ کے چھوڑتی ہے ۔ پھر سے ارحام اور اقربا کے مابین فرق واضح طور سے نظر آ رہا ہے ۔ 

قرآن میں موجود انبیاء کے قصے پڑھ کر دیکھئے , ہابیل کا بھائی قتل کرتا ہے ، جناب نوح کا بیٹا نافرمانی، ابرہیم کے والد ساتھ نہیں دے رہے، لوط کی بیوی بے وفائی کرتی ہے، یعقوب کے بیٹے ہوں یا یوسف کے بھائی حسد اور دغابازی سے بھر پور، سب رشتہ داروں کی زیادتیوں اور بے وفائیوں کی داستانیں ہیں ہمارے اپنے نبی جب اپنے رشتہ داروں اور آبائی علاقے کو چھوڑ کر ہجرت کرتے ہیں تو ان کی تحریک کو چار چاند لگ جاتے ہیں کیونکہ تحریک میں اقربا ہی اقربا شامل ہو رہے ہیں جبکہ رشتہ داروں یعنی ابو سفیان اور ابو جہل جیسے لوگوں نے آپ کا اپنے آبائی علاقے میں رہنا تقریباً ناممکن بنا کر رکھ دیا تھا۔

حاصل کلام یہ ہے کہ اقربا وہ ہیں جن کے قریب آنے کو دل کرتا ہے ، جن کا قرب ہمیں سکون دیتا ہے ، ہمیں بے خوف کرتا ہے ، جن کو ہم سے لالچ یا حسد نہیں ہوتا، زندگی کو آسان اور خوبصورت بنانے کےلئے ارحام اور اقربا کو الگ کرنا سیکھیں ، اقربا سے دل کا رشتہ ہوتا ہے حالانکہ ان سے کوئی ارحام جیسا رشتہ نہیں ہوتا، شاید یہی قرب کی اصل وجہ ہو۔ واللہ اعلم

تحریر: حسنین ملک