جذبوں کا قبرستان
جذبوں کا قبرستان
October 22, 2019
عشق، محبت اور پگڑی
عشق، محبت اور پگڑی
February 10, 2020

نیتوں کا دارومدار کس چیز پر ہے؟

نیتوں کا دارومدار کس چیز پر ہے؟

عملوں کا دارو مدار نیتوں پر ہے، یہ الله کا فرمان بھی ہے ، حدیث بھی ہے اور بہت سے اقوال زریں کا مفہومِ بھی۔

میرے ایک استاد بچپن میں نیتوں کا اثر اس حکایت سےسمجھایا کرتے تھے کہ جب ابراہیم علیہ السلام کو نمرود نے آگ میں پھینکنے کا اعلان کیا تو ایک ہد ہد اپنی چھوٹی سی چونچ میں تھوڑا سا پانی بھر کر لاتا اور آگ پر ڈال دیتا، پھر واپس جاتا، چونچ میں پانی ڈالتا اور آگ پر پھینک دیتا۔
ایک گو تھی جو چھپکلی کی نسل سے ہوتی ہے مگر جسامت میں اس سے کافی بڑی ہوتی. وہ نمرود کا ساتھ دینے کے لیے آگ کو پھونکیں مارتی رہی تاکہ آگ مزید بھڑک جائے۔

استاد فرمایا کرتے کہ نہ ہدہد کی چونچ میں اتنا پانی آسکتا تھا کہ آگ بجھ جائے اور نہ ہی گو کی پھونک میں اتنی جان تھی کہ آگ بھڑک اٹھے مگر دونوں کو انکی نیت کا اجر ملا. اللہ نے ہدہد اور اس جیسے پرندوں کو جنت میں رکھا ہے اور گو جیسی چھپکلیاں جہنم میں۔

ہم سب مانتے ہیں کہ ایسا ہی ہے یعنی اچھی نیتوں سے اچھے عمل رونما ہونگے اور بری نیتوں سے برے اعمال سرزد. کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ پھر نیتوں کا دارومدار کس چیز پر ہے؟

نیتوں کا دارومدار تین چیزوں پر ہے

پہلی چیز وہ رزق ہے جو ہمارے اندر جاتا ہے، رزق حلال سے بنا ہوا خون، گوشت، طاقت اور عقل ہمیں مثبت سوچوں، نیتوں اور ان کے بدلے میں پیدا ہونے والے مثبت اعمال کی طرف راغب کرتی ہے ایسے ہی رزق حرام اسکے متضاد اثر کرے گا. اسی لئے الله فرماتا ہے

اے لوگو زمین میں سے وہ حاصل کرو جو جائز اور پاک ہو اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلنا ، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ البقرہ 168

یعنی جو جائز اور پاک نہیں ہے وہی اصل میں شیطانی خیالات کی جڑ ہے

دوسری چیز تربیت ہے جو نیتوں کی پیداوار میں ایک لازمی جز ہے ۔ پرورش ، ماحول ، والدین ، معاشرہ اور تجربات وہ سب عوامل ہیں جو انسان کی ذہنی پرورش کرتے ہیں جہاں سے نیتوں کا دریا پھوٹتا ہے ۔ قرآن میں حضرت لقمان اپنے بیٹے کی جس طرح تربیت کر رہے ہیں وہ ایک مثال ہے ۔ وہ ہر اچھا یا برا کام اسکے فائدے اور نقصان کے ساتھ بتاتے ہیں ۔ اسکا لب لباب کچھ ایسے ہے

الله کا شکر گزار رہنا اس میں تمہارا ہی فائدہ ہے، شرک سے بچنا کہ یہ بہت بڑا ظلم ہے ، والدین کا حق ادا کرنا انکا شکر الله کا شکر ہے ، برے کاموں سے رکنا اور اچھے کاموں کی تلقین کرنا مصیبت میں استقامت دکھانا کہ یہ اللہ کے نزدیک بڑے کام ہیں ، زمین میں اکڑ اور تکبر نہ کرنا کہ الله خود پسندوں کو کبھی پسند نہیں کرتا ، اپنی چال اور آواز میں میانہ روی اختیار کرنا ، الله حد سے بڑھنے والوں کو کبھی ہدایت نہیں دیتا۔ سورہ لقمان

تیسری اور سب سے بڑی چیز الله کا فیصلہ ہے جسکو ہم نصیب یا تقدیر کہتے ہیں اور یہ صرف الله کی مرضی پر منحصر ہے، ہم پوری کوشش اور دعا کے باوجود اس کے فیصلے کے آگے بے بس ہیں کہ ہونا وہی ہے جو اسکی چاہت ہے۔ اسکا اظہار وہ قرآن میں ایسے فرماتا ہے

اور یقیناً ہم نے بہت سے جن اور انسان پیدا ہی جہنم کے لئے کئے ہیں ، انکے پاس دل ہیں مگر وہ سوچتے نہیں، آنکھیں ہیں مگر دیکھتے نہیں، کان ہیں مگر سنتے نہیں، وہ جانوروں کی طرح ہیں یا ان سے بھی گمراہ، یہی وہ لوگ ہیں جو غافل ہیں۔ اعراف 179

الله ہمیں سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق دے . آمین

تحریر: حسنین ملک